کراچی: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں سودی مالیاتی نظام کا خاتمہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ حکومت سود کے خاتمے سے متعلق آئینی اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ وفاقی بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے، جبکہ واضح عدالتی فیصلوں کے باوجود حکومت نے سودی بینکاری نظام کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ سود ختم کرنا چاہتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کے برعکس ہو رہا ہے اور یہ نظام ختم ہونے کے بجائے مزید پھیل رہا ہے۔
وفاقی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ اس میں عوام کو کوئی خاص ریلیف نہیں دیا گیا بلکہ عام شہریوں پر مزید بوجھ بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 7 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 400 فیصد تک اضافہ کیا گیا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی کا حجم 8 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر جائے گا، جو ملکی معیشت اور عوام پر بھاری بوجھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود میں ہر اضافہ ملکی معیشت پر اضافی اخراجات ڈالتا ہے جس کا اثر عوام پر پڑتا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ بینکاری شعبہ ترقی کر رہا ہے اور منافع کما رہا ہے، لیکن عام پاکستانی کی معاشی حالت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔
انہوں نے ٹیکس نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بلوں میں مختلف ٹیکسز اور سرچارجز شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ایف بی آر کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کو ٹیکس وصولی اور اخراجات میں زیادہ شفافیت ملنی چاہیے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اقلیتی برادری کے ارکان نے بھی سود کے خلاف بات کی اور اسے معاشرے کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
واضح رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت سود کے خاتمے کو آئینی تحفظ دیا گیا ہے اور سرکاری و نجی اداروں کے لیے یکم جنوری 2028 تک منتقلی کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
کراچی: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں سودی مالیاتی نظام کا خاتمہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ حکومت سود کے خاتمے سے متعلق آئینی اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ وفاقی بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے، جبکہ واضح عدالتی فیصلوں کے باوجود حکومت نے سودی بینکاری نظام کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ سود ختم کرنا چاہتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کے برعکس ہو رہا ہے اور یہ نظام ختم ہونے کے بجائے مزید پھیل رہا ہے۔
وفاقی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ اس میں عوام کو کوئی خاص ریلیف نہیں دیا گیا بلکہ عام شہریوں پر مزید بوجھ بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 7 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 400 فیصد تک اضافہ کیا گیا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی کا حجم 8 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر جائے گا، جو ملکی معیشت اور عوام پر بھاری بوجھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود میں ہر اضافہ ملکی معیشت پر اضافی اخراجات ڈالتا ہے جس کا اثر عوام پر پڑتا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ بینکاری شعبہ ترقی کر رہا ہے اور منافع کما رہا ہے، لیکن عام پاکستانی کی معاشی حالت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔
انہوں نے ٹیکس نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بلوں میں مختلف ٹیکسز اور سرچارجز شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ایف بی آر کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کو ٹیکس وصولی اور اخراجات میں زیادہ شفافیت ملنی چاہیے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اقلیتی برادری کے ارکان نے بھی سود کے خلاف بات کی اور اسے معاشرے کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
واضح رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت سود کے خاتمے کو آئینی تحفظ دیا گیا ہے اور سرکاری و نجی اداروں کے لیے یکم جنوری 2028 تک منتقلی کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔




