کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے صوبائی قیادت میں تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے وزیراعلیٰ بننے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی ممکنہ جانشینوں سے متعلق افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ صحافیوں کی جانب سے لیے گئے نام، جن میں شرجیل میمن، ناصر شاہ، سعید غنی اور اویس قادر شاہ شامل ہیں، پارٹی کے وفادار کارکن ہیں اور کوئی بھی انہیں تبدیل کرنے کا خواہشمند نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ میں کسی سیاسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں، موجودہ صوبائی حکومت بہتر انداز میں کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیادت میں تبدیلی کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب حکومتی معاملات میں مسائل پیدا ہوں، جبکہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ صوبے کے امور مؤثر طریقے سے چلا رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے واضح کیا کہ سندھ میں تبدیلی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاخیر کی وجوہات جاننے کے لیے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے، جو حکومتی اہلکاروں کی مداخلت سے بالاتر ہو تاکہ شفاف تحقیقات ممکن ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف ایک غیر جانبدار اور بااختیار تحقیقات سے ہی اصل حقائق سامنے آ سکتے ہیں کہ تاخیر کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے یا صوبائی انتظامیہ پر۔




