کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی سعدیہ جاوید نے کہا کہ کراچی کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سندھ حکومت مسلسل کام کر رہی ہے، تاہم بعض عناصر آج بھی شہر کے سیاسی اور انتظامی مستقبل پر غیر ضروری بحث چھیڑتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس المناک واقعے میں سینکڑوں خاندان متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق عدالتی فیصلے کے بعد مختلف ردعمل سامنے آئے اور سیاسی شور بھی مچا، لیکن متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد اور مسائل پر کم توجہ دی گئی۔
سعدیہ جاوید نے کہا کہ کچھ حلقے آج بھی کراچی کو سندھ سے الگ کرنے یا اسے وفاق کے حوالے کرنے کی بات کرتے ہیں، حالانکہ کراچی سندھ کا تاریخی، معاشی اور ثقافتی مرکز ہے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ "کراچی سندھ کا حصہ تھا، ہے اور ہمیشہ سندھ کا ہی رہے گا۔"
پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ مطالبات وہ لوگ کر رہے ہیں جو 1988 سے مختلف ادوار میں وفاقی حکومتوں کا حصہ رہے ہیں، اس لیے انہیں پہلے اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت کراچی سمیت پورے صوبے کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی




