کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی ارسلان پرویز نے کہا کہ کراچی بانیانِ پاکستان اور ان کی اولادوں کا شہر ہے، لیکن آج بھی یہ شہر بنیادی مسائل کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے حلقے میں جامعہ کراچی واقع ہے، جہاں اساتذہ نے اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کی، مگر سندھ حکومت کے کسی نمائندے نے ان سے رابطہ کرنے یا ان کے مسائل سننے کی کوشش نہیں کی۔

ارسلان پرویز نے کہا کہ بجٹ کسی بھی حکومت کی ترجیحات اور کارکردگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کو اعتماد میں نہ لینے کے باعث ان کی جماعت نے بجٹ کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں کمی کی گئی ہے، جبکہ سندھ اور خصوصاً کراچی کو اب بھی بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ ان کا سوال تھا کہ کیا سندھ کے تمام مسائل حل ہو چکے ہیں جو ترقیاتی اخراجات کم کیے جا رہے ہیں؟

ایم کیو ایم رکن نے کہا کہ ہر بارش میں کراچی ڈوب جاتا ہے، سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے اور شہر آج بھی جدید اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ سے محروم ہے۔

انہوں نے امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں جرائم اور بدامنی کے واقعات شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔ ان کے مطابق امن و امان کے لیے 222 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود شہری خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔

ارسلان پرویز نے کہا کہ کراچی کے شہری آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، اس لیے موجودہ بجٹ کو حقیقی معنوں میں عوامی بجٹ قرار نہیں دیا جا سکتا