کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ موجودہ معاشی اور قومی حالات کے تناظر میں سندھ حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ نے اپنے حصے سے وفاق کو 260 ارب روپے دیے ہیں، جس کے باوجود صوبے کو اپنے آئینی حقوق کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
جام اکرام اللہ دھاریجو نے گل پلازہ سانحے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ہولناک آتشزدگی میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ سندھ حکومت نے متاثرین اور بحالی کے اقدامات کے لیے 8 ارب روپے خرچ کیے۔
انہوں نے گیس کے معاملے پر وفاق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گیس پیدا ہوتی ہے لیکن ناانصافی بھی سندھ کے ساتھ ہی ہو رہی ہے۔ آئین کے مطابق سندھ سے نکلنے والی گیس پر پہلا حق سندھ کا ہے، اس لیے صوبے کو اس کا مکمل حق دیا جانا چاہیے۔
موٹر ویز کے حوالے سے انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبہ سندھ اب تک موٹر ویز کے بڑے منصوبوں سے کیوں محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھر-حیدرآباد موٹروے کے حوالے سے تین وزرائے اعظم وعدے کر چکے ہیں، تاہم منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور امید ہے کہ رواں سال اس پر عملی کام کا آغاز ہو جائے گا۔
پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دریائے چناب پر نئے کینال کی تعمیر کی بات ہو رہی ہے، جبکہ سندھ پہلے ہی شدید پانی کی قلت کا شکار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت دریاؤں پر ایسے نئے منصوبوں کی مزاحمت کرے گی جو صوبے کے پانی کے حقوق کو متاثر کریں۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بند کرنا عوام دشمنی کے مترادف ہوگا کیونکہ لاکھوں مستحق خاندان اس پروگرام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
جام اکرام اللہ دھاریجو نے ان عناصر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مطالبات کرنے والے اکثر افراد خود وفاقی حکومت کا حصہ ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ کراچی سندھ کا دل ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے نمایاں کام کرائے ہیں۔




