کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ایم کیو ایم کے رکن دانیال احمد نے سندھ حکومت کی مالی اور ترقیاتی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے 60 ارب روپے قرض حاصل کیا ہے، جبکہ عوامی مسائل بدستور برقرار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں جمہوری طرزِ حکمرانی کے بجائے شہنشاہیت کا تاثر پیدا ہو رہا ہے اور اہم عوامی منصوبے طویل عرصے سے التوا کا شکار ہیں۔

دانیال احمد نے کہا کہ چھ کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے میں صرف ایک ہزار پنک اسکوٹیاں تقسیم کی گئی ہیں، جبکہ صرف کراچی شہر کو ہی کم از کم 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے پورے صوبے کے لیے صرف دو ہزار بسیں فراہم کی ہیں، جو ضرورت کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ اٹھارہ برس سے ایک ہی حکومت برسراقتدار ہے، اس لیے عوام کو درپیش مسائل کی ذمہ داری بھی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

ایم کیو ایم کے رکن نے کے فور منصوبے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ دو دہائیوں گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا اور اس کی لاگت بڑھتے بڑھتے ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ذوالفقار آباد کا منصوبہ بھی تاحال مکمل نہیں ہو سکا، جس کے باعث یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں کیٹی بندر جیسے بڑے منصوبے کس طرح پایۂ تکمیل تک پہنچ سکیں گے۔ دانیال احمد نے مطالبہ کیا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔