کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی ملیحہ منظور نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی کم وصولیوں کے باعث صوبوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے اور سندھ کے بجٹ میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کو اس وقت 250 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے، جبکہ صوبائی حکومت وفاق کو 260 ارب روپے فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق مجموعی مالی شارٹ فال 600 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جس کے باوجود سندھ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

ملیحہ منظور کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت مسلسل پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے، جس کا براہ راست اثر عوام کی زندگیوں اور معیشت پر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے سندھ میں پانی کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو اس وقت 40 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ "پانی زندگی ہے، سندھ سے اس کی زندگی نہ چھینی جائے"، انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا۔

پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بجٹ کو سنے بغیر ہی احتجاج شروع کر دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بجٹ کے حق میں ووٹ دینے کے بدلے گورنر شپ کا مطالبہ کیا گیا تھا، اور کیا ووٹ کی بھی کوئی قیمت مقرر کی گئی ہے؟