یہ منظر میرے لیے محض ایک سرکاری دفتر کا معمول کا منظر نہیں تھا بلکہ ایک ایسے مثبت تغیر کی علامت تھا جسے دیکھ کر دل کو خوشی بھی ہوئی اور ماضی کی کئی یادیں بھی تازہ ہوگئیں۔
کلفٹن ڈرائیونگ لائسنس برانچ میں ایک پولیس افسر، سرکاری وردی میں ملبوس، نہایت اطمینان اور شائستگی کے ساتھ ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والے ایک شہری سے گفتگو کر رہا تھا۔ پھر اس نے اسے کہا:
’’بولیں، میں اللہ رب العزت کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنوانے یا ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے میں نے کسی شخص یا عملے کو کسی قسم کی رشوت یا رقم نہیں دی، اور اگر میں غلط بیانی کروں تو اللہ کا عذاب مجھ پر پڑے۔‘‘
شہری نے یہ الفاظ دہرائے اور اپنا ڈرائیونگ لائسنس وصول کرلیا۔
اپنے 35 سالہ صحافتی سفر میں پہلی مرتبہ میں نے ڈرائیونگ لائسنس کے دفتر میں ایسا منظر دیکھا۔ اس ایک واقعے نے مجھے کئی دہائیاں پیچھے پہنچا دیا۔
سنہ 1982ء میں، جب میں ایس ایم سائنس کالج میں زیرِ تعلیم تھا، پہلی مرتبہ اپنے دوست حبیب کے ساتھ کلفٹن ڈرائیونگ لائسنس برانچ جانے کا اتفاق ہوا۔ اس کے بعد بھی کئی مرتبہ اس دفتر جانا پڑا۔ اس زمانے میں ڈرائیونگ لائسنس بنوانا ایک مشکل اور صبر آزما مرحلہ سمجھا جاتا تھا۔ دفتر کی گلی میں داخل ہوتے ہی ایجنٹوں کی ایک دنیا آباد نظر آتی تھی۔ ہر طرف سے آوازیں آتیں کہ لائسنس بنوانا ہے تو ہم یہ کام آسانی سے کروا سکتے ہیں۔ ان ’’خدمات‘‘ کے عوض ایک معقول رقم وصول کی جاتی تھی۔
قریب ہی موٹر ٹریننگ کے متعدد دفاتر بھی موجود تھے، جہاں ڈرائیونگ سیکھنے کے ساتھ لائسنس بنوانے کے معاملات میں بھی مدد کی پیشکش کی جاتی تھی۔ دوسری طرف لائسنس آفس میں طویل قطاریں، کاغذی کارروائی اور مختلف مراحل کے ٹیسٹ ہوتے تھے۔ ٹیسٹ پاس کرنا بھی ہر ایک کے لیے آسان نہ تھا۔ بار بار ناکامی کے بعد بہت سے لوگ بالآخر ایجنٹوں کا سہارا لینے پر مجبور ہوجاتے تھے۔
اس زمانے میں اخبارات میں ڈرائیونگ لائسنس دفاتر کے عملے کی مبینہ لوٹ مار اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے خبریں شائع ہونا معمول کی بات تھی۔ بعد میں الیکٹرانک میڈیا آیا تو یہ مسائل بھی خبروں اور پروگراموں کا حصہ بنتے رہے۔ یوں ڈرائیونگ لائسنس کے ادارے کی کارکردگی، شہریوں کی پریشانیاں اور مبینہ بدعنوانی کے واقعات نہ صرف عوام کے لیے اذیت کا باعث بنتے رہے بلکہ پولیس اور متعلقہ اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی رہی۔
لیکن وقت بدلتا ہے، ادارے بدل سکتے ہیں اور نیت بدل جائے تو نظام بھی بدل سکتا ہے۔
گزشتہ روز جب کلفٹن ڈرائیونگ لائسنس برانچ جانے کا اتفاق ہوا تو منظر بالکل مختلف تھا۔ وہی گلی تھی، مگر ایجنٹ دکھائی نہیں دیے۔ وہی دفتر تھا، مگر لمبی قطاریں نظر نہیں آئیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ شہریوں کے ساتھ رویے میں ایک نمایاں تبدیلی محسوس ہوئی۔
وہاں ایک خوبصورت داڑھی والے پولیس افسر، ڈی ایس پی جناب آصف کمالی، نہایت اخلاق، تحمل اور خوش دلی کے ساتھ لائسنس بنوانے کے لیے آنے والے شہریوں سے فرداً فرداً ملاقات کر رہے تھے۔ ان کے انداز میں رعب سے زیادہ ذمہ داری، عہدے سے زیادہ خدمت اور اختیار سے زیادہ احساسِ فرض نمایاں تھا۔
سب سے متاثر کن بات یہ تھی کہ جناب آصف کمالی صرف خود اچھے انداز میں کام نہیں کر رہے تھے بلکہ اپنے ماتحت عملے کو بھی یہی پیغام دے رہے تھے کہ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، دیانت داری سے کام کریں اور اپنے عہدے کو اللہ کی طرف سے دی ہوئی امانت سمجھیں۔
یہی وہ رویہ ہے جو کسی سرکاری افسر کو محض عہدے دار نہیں بلکہ رول ماڈل بناتا ہے۔
پولیس کو معاشرے کا پاسبان کہا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی فرض قانون کی عملداری یقینی بنانا، شہریوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ کرنا اور جرائم پیشہ عناصر سے معاشرے کو محفوظ رکھنا ہے۔ کوئی بھی مہذب معاشرہ ایک مؤثر، دیانت دار اور عوام دوست پولیس کے بغیر مکمل امن و انصاف قائم نہیں کرسکتا۔
یقیناً پولیس کے مجموعی کردار کے حوالے سے عوام کے ذہن میں بہت سے سوالات اور شکایات موجود ہیں۔ تھانہ کلچر کو عوام دوست بنانے کی ضرورت آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔ سیاسی دباؤ، سفارش، رشوت اور اختیارات کے غلط استعمال کی شکایات نے بھی اس ادارے کے تشخص کو نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پولیس کے اندر ایسے باصلاحیت، فرض شناس، بہادر اور دیانت دار افسران بھی آتے رہے ہیں جنہوں نے اپنے کردار سے محکمے کا وقار بلند کیا۔
کلفٹن لائسنس برانچ میں جناب آصف کمالی کو دیکھ کر مجھے 1980ء کی دہائی کے ڈی ایس پی سید شریف الحسن یاد آگئے، جو نارتھ کراچی کے رہائشی تھے اور کلفٹن لائسنس برانچ میں اپنی دیانت داری، نیک نامی اور عوامی حسنِ سلوک کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔ مگر بدقسمتی سے ایسے افسران ان عناصر کو کبھی پسند نہیں آتے جو نظام کی خامیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہیں بھی زیادہ عرصہ وہاں کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
آج جب کلفٹن لائسنس برانچ میں آصف کمالی جیسے افسر کو شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے، اپنے عملے کی رہنمائی کرتے اور دیانت داری کو عملی شعار بناتے دیکھا تو دل میں ایک سوال بھی پیدا ہوا:
کیا ہمارے ادارے ایسے افسران کو مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیں گے؟
کیونکہ اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ ایک اچھا افسر کسی ایک دفتر میں کتنے دن اچھی کارکردگی دکھاتا ہے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کے قائم کردہ شفاف، منظم اور عوام دوست نظام کو اس کی غیر موجودگی میں بھی برقرار رکھا جائے۔
آج کلفٹن لائسنس برانچ میں جو تبدیلی دکھائی دے رہی ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ تاہم ناظم آباد اور کورنگی کی لائسنس برانچوں کے حوالے سے عوامی سطح پر جو شکایات اور سوالات گردش کرتے رہے ہیں، وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان شکایات کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں اصلاحات کی جائیں۔
محکمہ پولیس کے اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ آصف کمالی جیسے افسران کی حوصلہ افزائی کریں، انہیں محض ایک فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایک مثبت پولیسنگ ماڈل کے طور پر سامنے لائیں۔
ایک ایسا ماڈل جس میں شہری کو ذلت نہیں عزت ملے، سفارش نہیں میرٹ چلے، رشوت نہیں شفافیت ہو، خوف نہیں اعتماد ہو اور دفتر کی دہلیز پر آنے والا شخص خود کو بے بس نہیں بلکہ ریاست کا معزز شہری محسوس کرے۔
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والے شہری سے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر حلف لینا شاید ایک چھوٹا سا عمل دکھائی دے، لیکن اگر اس کے پیچھے دیانت داری، جواب دہی اور اللہ کا خوف موجود ہو تو یہی چھوٹا سا عمل ایک بڑے اخلاقی پیغام میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
میری خواہش ہے کہ کلفٹن لائسنس برانچ کا یہ منظر محض ایک خوشگوار اتفاق نہ ہو بلکہ کراچی کے تمام لائسنس دفاتر اور پولیس کے دیگر شعبوں میں بھی ایسی ہی تبدیلی کا آغاز بنے۔
آصف کمالی جیسے افسر ادارے کی عمارت نہیں بدلتے، وہ ادارے کا مزاج بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جب ادارے کا مزاج بدلتا ہے تو عوام کا اعتماد واپس آتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ انسانوں میں آسانیاں بانٹنے والا یہ باکردار افسر کلفٹن لائسنس برانچ میں کب تک موجود رہتا ہے، اور اس کے قائم کردہ شفاف نظام کو آنے والے دنوں میں کس حد تک برقرار رکھا جاتا ہے۔
یہ صرف آصف کمالی کا امتحان نہیں،
یہ پورے محکمہ پولیس کی آزمائش ہے۔





