مختلف علاقوں کی سیر کرتے، گھومتے گھماتے بالآخر ہم سٹی سینٹر پہنچے۔ یہاں ڈالر راما، کینیڈین سپر اسٹور اور دیگر شاپنگ مالز اور آؤٹ لیٹس سے ضروری اشیا کی خریداری میں وقت کا کچھ یوں پتا ہی نہ چلا کہ دیکھتے ہی دیکھتے رات کے دس بج گئے۔ دن بھر کی مصروفیت اور مسلسل سفر نے جسمانی تھکن ضرور پیدا کردی تھی، لیکن اپنوں کی رفاقت اور خوشگوار ماحول نے اس تھکن کو محسوس نہیں ہونے دیا۔

جب تھکے ماندے گھر پہنچے تو کھانا پہلے ہی تیار تھا۔ ہم لوگ دسترخوان کے گرد جمع ہوگئے اور دن بھر کی مصروفیات کے بعد ایک دوسرے کی رفاقت میں خوشگوار ماحول کے ساتھ رات کا کھانا تناول کیا۔ کھانے کے بعد فاروق بھائی نے اپنے مخصوص انداز میں مصالحہ دار چائے تیار کی۔ گرم گرم چائے کی چسکیوں کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ بھی چل نکلا۔ سفر کے دوران پیش آنے والے دلچسپ واقعات، گزرے ہوئے لمحات، پاکستانی حالات اور آئندہ کے منصوبے اور نئی منزلوں کے امکانات موضوعِ گفتگو بنتے رہے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وقت بھی ہماری اس محفل کا حصہ بن کر کچھ دیر کے لیے ٹھہر گیا ہو۔

اگلی صبح امریکہ روانگی کا مرحلہ درپیش تھا، اس لیے زیادہ دیر تک جاگتے رہنا مناسب نہ سمجھا۔ سلیم بھائی کو نہایت محبت اور اپنائیت کے ساتھ رخصت کیا گیا۔ ان کی جدائی کے احساس میں بھی ایک عجیب سی مٹھاس تھی؛ دیارِ غیر میں ملنے والی یہ رفاقت چند ساعتوں میں ایسی یادیں دے گئی تھی جو مدتوں دل میں محفوظ رہنے والی تھیں۔

سلیم بھائی کے جانے کے بعد اگلے سفر امریکہ کی تیاریوں کا مرحلہ شروع ہوا۔ سامان ترتیب دیا، ضروری چیزیں سنبھالیں اور نئی منزل کی جانب روانگی کے لیے آرام کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ صبح تازہ دم ہو کر سفر کا آغاز کیا جاسکے۔بستر پہ جاکر لیٹے ہی تھے کہ کراچی سےہمارے دوست محمد علی کھوسو کا فون آگیا ان سے کچھ دیر بات کی ۔

رات کی ٹھنڈی ہوائیں، روشن شاہراہیں، تیز رفتاری سے گزرتی ہوئی گاڑیاں اور ساتھ چلتے احباب کی خوشگوار رفاقت—سب نے مل کر اس دن کو یادوں کے البم کا ایک خوبصورت ورق بنا دیا تھا۔ دیارِ غیر میں اپنوں کی محبت، گھر میں پکے پاکستانی کھانوں کی خوشبو، چائے کی گرماہٹ اور وطن سے وابستہ یادوں نے اس شام کو ایک ایسی اپنائیت عطا کردی تھی جسے لفظوں میں مکمل طور پر بیان کرنا آسان نہیں۔

واقعی، فاصلے خواہ کتنے ہی طویل کیوں نہ ہوں، اگر ساتھ محبت کرنے والے اپنے لوگ ہوں تو اجنبی دیار بھی اجنبی نہیں رہتا۔ اپنوں کی محبت جہاں بسیرا کرے، وہیں گھر جیسا سکون اتر آتا ہے۔