پاکستان میں نئے صوبوں کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے مخصوص چہرے کافی عرصے سے سرگرم رہے ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں یہ بحث اچانک جس شدت کے ساتھ سامنے لائی گئی ہے اور جس طرح کا ماحول پیدا کیا گیا ہے، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض انتظامی بحث نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک منظم نفسیاتی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔
خصوصاً سندھ کے بارے میں بعض ٹی وی چینلز، تجزیہ نگاروں اور بااثر حلقوں سے وابستہ شخصیات کی جانب سے جو گفتگو کی جا رہی ہے، اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ کسی مخصوص ایجنڈے کو عوامی رائے کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سندھ میں اس بیانیے کی شدید مخالفت کے باعث بعض مخصوص افراد سے ایسے بیانات دلوائے جا رہے ہیں کہ سب کچھ طے ہو چکا ہے اور سندھ کی مخالفت کے باوجود ہر صورت نئے صوبے بنائے جائیں گے۔ یہ نفسیاتی حربے نئے نہیں ہیں۔ ماضی میں کالا باغ ڈیم اور متنازع نہروں کے معاملے پر بھی اسی نوعیت کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں تاکہ سندھ کے لوگوں کو یہ باور کرایا جا سکے کہ فیصلہ ہو چکا ہے اور اب اسے تسلیم کر لینا چاہیے۔
فواد چوہدری اور محمد علی درانی کے حالیہ بیانات بھی اسی سلسلے کی کڑی محسوس ہوتے ہیں۔ ایک صحافی سے یہ کہلوایا گیا کہ صرف چھ ماہ دیے گئے ہیں، اس کے بعد ہر صورت عمل ہوگا۔ بعض دیگر صحافیوں کے ذریعے ایک پرانی پریزنٹیشن کو ایک بڑے تحقیقی دستاویز کے طور پر پیش کرتے ہوئے صوبوں کی تقسیم کے نقشے اور تفصیلات نشر کی گئیں۔
سندھ میں اس بحث کو محض ایک آئینی یا انتظامی سوال کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔ سندھ کے لوگوں کی بڑی تعداد اسے اپنی تاریخی شناخت، سیاسی حیثیت اور وفاقی ڈھانچے سے جڑا ہوا معاملہ سمجھتی ہے۔
اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ پاکستان کے موجودہ صوبے کسی سرکاری نوٹیفکیشن یا محض انتظامی حکم کے نتیجے میں وجود میں نہیں آئے تھے۔ یہ تاریخی، ثقافتی اور سیاسی اکائیاں تھیں جنہوں نے پاکستان کے قیام میں اپنا کردار ادا کیا۔
سندھ تو پاکستان کے قیام سے قبل بھی ایک الگ سیاسی شناخت رکھتا تھا اور 1940 کی قرارداد کی روح کے تحت نئے ملک کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی پس منظر میں سندھ میں یہ شدید احساس پایا جاتا ہے کہ صوبوں کو محض انتظامی یونٹس قرار دینا تاریخی حقائق کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
وفاقی ریاستوں میں صوبے صرف انتظامی حدود نہیں ہوتے بلکہ وہ سیاسی اور تاریخی اکائیاں بھی ہوتے ہیں۔ اسی لیے سندھ کی وحدت سے متعلق کسی بھی بحث کو صرف انتظامی ضرورت کے دائرے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔
نئے صوبوں کے حامی حلقے آج وہی دلائل دہرا رہے ہیں جو ماضی میں ون یونٹ کے حق میں دیے جاتے تھے۔ ستر سال قبل کہا گیا تھا کہ ون یونٹ سے پاکستان مضبوط ہوگا، انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی اور صوبائیت کا خاتمہ ہوگا۔ پنجاب کے اس وقت کے وزرائے اعلیٰ ملک فیروز خان نون اور ممتاز دولتانہ نے انہی دلائل کی بنیاد پر یہ نظام نافذ کیا، جس کے نتیجے میں ملک میں شدید سیاسی ردعمل پیدا ہوا اور بالآخر پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ون یونٹ ناکام ہوا اور اس نے وفاق کے اندر بداعتمادی اور سیاسی بحرانوں کو بھی جنم دیا۔ آج پیش کیا جانے والا نیا فارمولا ملک کے لیے ون یونٹ سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
نئے صوبوں کے حق میں سب سے زیادہ پیش کیا جانے والا دلیل ’’بہتر حکمرانی‘‘ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بڑے صوبے انتظامی طور پر غیر مؤثر ہو چکے ہیں، اس لیے انہیں چھوٹے یونٹس میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔
لیکن اگر حکمرانی ہی اصل مسئلہ ہے تو سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ڈویژن، اضلاع اور تعلقوں کا نظام کیوں موجود ہے؟ ملک کے قیام کے وقت پاکستان میں آٹھ ڈویژن اور چالیس اضلاع تھے، جبکہ آج ڈویژنوں کی تعداد 35 اور اضلاع کی تعداد 150 سے زیادہ ہے۔
اگر انتظامی سہولت درکار ہو تو یہ سہولت ڈویژن، اضلاع اور مقامی حکومتوں کے ذریعے فراہم کی جا سکتی ہے۔ یہ کہنا کہ بڑے صوبوں کی وجہ سے عام شہریوں کے مسائل حل نہیں ہوتے، حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
عام شہری کا روزمرہ کے معاملات میں براہِ راست رابطہ صوبائی دارالحکومت کے بجائے زیادہ تر ضلع یا تحصیل کی سطح کے اداروں سے ہوتا ہے۔ تعلیم، صحت، پینے کا پانی، شناختی کارڈ، لائسنس، زمین کے معاملات، عدالتیں اور بلدیاتی خدمات سب مقامی سطح پر فراہم کی جاتی ہیں۔
لہٰذا اصل مسئلہ فاصلے یا انتظامی حدود کا نہیں بلکہ حکمرانی کے معیار کا ہے، اور یہ مسئلہ صرف نئے صوبے بنانے سے حل نہیں ہوگا۔
دوسرا دلیل یہ دی جاتی ہے کہ زیادہ صوبے ترقی کا باعث بنتے ہیں، لیکن دنیا کا تجربہ اس سادہ دعوے کی حمایت نہیں کرتا۔ افغانستان میں 34 صوبے، نائجیریا میں 36 ریاستیں، صومالیہ میں 18 یونٹس اور سوڈان میں 18 ریاستیں ہیں۔ ان میں سے کوئی ملک محض زیادہ انتظامی یونٹس کی وجہ سے ترقی یافتہ نہیں ہوا۔ ان ممالک کو معاشی مشکلات، سیاسی بحرانوں اور بعض صورتوں میں خانہ جنگی کا سامنا رہا ہے۔
ترقی کا انحصار مضبوط اداروں، قانون کی حکمرانی، شفافیت اور مقامی اختیارات پر ہوتا ہے، صرف انتظامی حدود کی تبدیلی پر نہیں۔
اس پوری بحث میں میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ حالیہ مہینوں میں بعض مخصوص میڈیا ہاؤسز اور تجزیہ نگاروں کی جانب سے ایسا ماحول بنایا گیا ہے جیسے پاکستان کے تمام مسائل کا حل نئے صوبے ہیں۔ ٹی وی مباحثوں، کالمز اور سیمینارز میں ایک جیسے دلائل بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔
سندھ کے لوگوں کو اس مہم کو ایک نفسیاتی جنگ کے طور پر دیکھنا چاہیے، جس کا مقصد عوامی ذہن کو ایک خاص سمت میں موڑنا ہو سکتا ہے۔
بعض ٹی وی چینلز کی جانب سے سوشل میڈیا پر سروے کروا کر نئے صوبوں کی عوامی حمایت کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔ سندھ کے حوالے سے بعض میڈیا ہاؤسز کا ایک متعصبانہ بیانیہ ماضی میں بھی سامنے آتا رہا ہے۔
نفسیاتی جنگ کا بنیادی اصول یہی ہوتا ہے کہ کسی خیال کو بار بار دہرایا جائے، یہاں تک کہ وہ لوگوں کو حقیقت محسوس ہونے لگے۔ بعض میڈیا گروپس اس بیانیے کو آگے بڑھانے میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔
یہی چینلز نئے ڈیموں اور نہروں کے حق میں مہم چلاتے رہے ہیں اور ان منصوبوں کی مخالفت کرنے والوں پر الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔ ایسے ہی حلقوں کی جانب سے پنجاب کی گورننس کی تعریف اور چھوٹے صوبوں کے مسائل کو نمایاں کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے۔
آج نئے صوبوں کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ پہلے یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ موجودہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، پھر اس ناکامی کا ذمہ دار مخصوص صوبوں یا سیاسی قوتوں کو قرار دیا جاتا ہے اور آخر میں یہ نسخہ پیش کیا جاتا ہے کہ نئے صوبے ہی تمام مسائل کا حل ہیں۔
یہ بیانیہ نہ صرف کمزور ہے بلکہ پاکستان کی کثیرالقومی وفاقی حقیقتوں کو سمجھنے سے بھی قاصر ہے۔
سندھ کے لوگوں کو بخوبی معلوم ہے کہ نئے صوبوں کی بحث کو صرف بہتر حکمرانی کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کے پیچھے معدنی وسائل، ساحلی پٹی اور معاشی مراکز پر زیادہ اختیار حاصل کرنے کی خواہشات بھی کارفرما ہو سکتی ہیں۔
خصوصاً کراچی کے بارے میں وقتاً فوقتاً سامنے آنے والی تجاویز نے سندھ میں شکوک اور بداعتمادی کو مزید بڑھایا ہے۔ اسی لیے سندھ میں کسی بھی نئے انتظامی تجربے کو محض انتظامی اصلاح کے طور پر نہیں بلکہ وسیع سیاسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
اصل مسئلہ پاکستان میں صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ وفاق کی نوعیت ہے۔
ملک کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی وفاق میں برابری، آئینی حقوق اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو نظرانداز کیا گیا، بحران پیدا ہوئے۔ اس کے برعکس جب صوبائی خودمختاری، سیاسی شمولیت اور جمہوری عمل کو مضبوط کیا گیا تو وفاق زیادہ مستحکم ہوا۔
آج پاکستان کو نئے صوبوں سے زیادہ ضرورت ایک ایسی وفاقی سوچ کی ہے جو تمام وفاقی اکائیوں کو برابری کی نظر سے دیکھے۔
صوبوں کی تقسیم سے پہلے یہ سوال پوچھنا ضروری ہے کہ کیا موجودہ صوبوں کو ان کے آئینی اختیارات مکمل طور پر حاصل ہیں؟ کیا مقامی حکومتیں حقیقی معنوں میں بااختیار ہیں؟ کیا وسائل کی تقسیم منصفانہ ہے؟ اور کیا عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے اور ان کا احتساب کرنے کا مکمل حق حاصل ہے؟
اگر ان بنیادی سوالات کے جواب اب بھی نامکمل ہیں تو نئے صوبوں کا نعرہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
پاکستان کے استحکام کا راستہ صوبوں کی تعداد بڑھانے میں نہیں بلکہ وفاق کو زیادہ منصفانہ، جمہوری اور شراکت داری پر مبنی بنانے میں ہے۔
سندھ کا بنیادی مؤقف بھی یہی ہے کہ ملک کو نئے انتظامی نقشوں سے زیادہ حقیقی وفاقیت، برابری اور عوامی حاکمیت کی ضرورت ہے۔
سندھ کی قوم پرست قوتوں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر سندھ کے عوام کی رہنمائی کریں۔ سندھ کی پرامن عوامی جدوجہد ہی ایسی مہمات کا مقابلہ کرنے کا آزمودہ راستہ ہے اور اسی بنیاد پر منظم عوامی جدوجہد کی ضرورت ہے۔




