ج مورخہ 27 جولائی 2026 کو انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون نے اپنے اداریے میں کراچی کو الگ صوبہ بنائے جانے کی کھلم کھلا حمایت اس انداز میں کی ہے کہ یہ کسی ایڈیٹر کا لکھا ہوا اداریہ معلوم نہیں ہوتا بلکہ ایم کیو ایم کے کسی کارکن کا بیان معلوم ہوتا ہے۔
ہم سندھ کے لوگ اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اسے صحافتی بداخلاقی اور بے ایمانی بھی سمجھتے ہیں۔ یہ اداریہ تعصب پرستانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور اپنے مطلب کے یک طرفہ دلائل دے کر بہت سی حقائق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
اداریے میں کہا گیا ہے کہ ’اجتماعی بہبود کے لیے اختیارات کی تقسیم‘ کے لیے کراچی کو الگ صوبہ بنایا جانا چاہیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک کی کل آبادی کے نصف سے بھی زیادہ آبادی والے پنجاب کو اس اصول کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟
کیا ایڈیٹر کو یہ بھول گیا ہے کہ جنرل مشرف کے دور میں کراچی کے تمام اضلاع ختم کر کے ایم کیو ایم نے ایک ضلع بنا دیا تھا، کیا وہ مرکزیت تھی یا اختیارات کی تقسیم؟
1947 کے بعد بھارت میں 15 ریاستوں کے بننے کی دلیل دیتے ہوئے اداریے نے اسے ایم کیو ایم کے لیے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا جواز بنایا ہے۔ بھارت نے لسانی بنیادوں پر یا کسی مخصوص سیاسی گروہ کے مطالبے پر صوبے یا ریاستیں نہیں بنائیں۔
وہ سندھی ہندو جو بھارت ہجرت کر گئے، کیا انہیں بھارت میں الگ صوبہ دیا گیا؟ حالانکہ سندھی ہندوؤں نے راکھ سے اٹھ کر وہاں ریاست کے معیار کی تعلیم اور صحت کی سہولیات بنانے میں زبردست حصہ ڈالا۔
’مہاجرین‘ کا پاکستان یا سندھ کے لیے کیا حصہ ہے؟ ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، لسانی فسادات، نفرت انگیز جرائم اور بوری بند لاشیں؟
بات یہ ہے کہ تیسری نسل کے جوان ہو جانے کے بعد بھی جو لوگ خود کو مہاجر سمجھتے ہیں اور جن کے پاس ’بدبودار سوچ‘ ہے، ان کے پاس پانچ ہزار سال پرانے وطن سندھ کو نسلی بنیاد پر تقسیم کرنے کا کیا جواز ہے؟
یہ نسل پرست گروہ جو جھوٹے دعووں کی بنیاد پر اربوں روپے کی سندھ کی پراپرٹی کا مالک بن چکا ہے، آج تک نہ سندھی زبان کو قبول کیا، نہ سندھی ثقافت اور معاشرے کا حصہ بنا، اور نہ ہی سندھی لوگوں کو برابر کا شہری تسلیم کیا۔ اس سوچ کے لوگوں کے لیے زمین وطن نہیں بلکہ صرف ایک پلاٹ ہے، جسے وہ چائنا کٹنگ سمجھ کر تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں۔
یہاں میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ تمام اردو بولنے والے لوگ خود کو اس طرح مہاجر نہیں سمجھتے جیسا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے دعوے دار سمجھتے ہیں۔ ہمارے بہت سے اردو بولنے والے دانشور، صحافی، افسران اور کاروباری لوگ روشن خیال ہیں، اور ان میں سے کئی سندھ کی مٹی کو بہت سے سندھیوں سے بھی زیادہ اپنی مادرِ وطن سمجھتے ہیں۔ یہاں ہم صرف اس سوچ کے حامیوں پر تنقید کر رہے ہیں جو کسی بھی بنیاد پر کراچی کو الگ صوبہ بنانے اور سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں۔
ایکسپریس کے اداریے میں ایک اہم نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ کراچی قومی آمدنی کا 60 فیصد اور سندھ کی آمدنی کا 90 فیصد پیدا کرتا ہے۔
جناب ایڈیٹر، پیدا کرنے اور جمع کرنے میں بڑا فرق ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت سی شوگر ملیں، کاٹن ملیں، آئل ملیں، فرٹیلائزر پلانٹس اور پاور ہاؤسز سندھ میں واقع ہیں؟ پورے پاکستان کا کسٹم ڈیوٹی کراچی میں وصول ہوتا ہے، اور اس میں سے آدھے سے زیادہ مال پنجاب کا امپورٹ یا ایکسپورٹ ہوتا ہے—کیا یہ بھی آپ بھول گئے؟
ہاں، ان کاروباروں کے دفاتر کراچی میں ہیں اور وہ ٹیکس کراچی میں جمع کراتے ہیں، تو اس لحاظ سے کراچی ایک کلیکشن پوائنٹ ہے، جنریشن پوائنٹ نہیں۔
سندھ کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے، جس کے لیے مختلف فصلوں کے بیج، زرعی ادویات اور فرٹیلائزر استعمال ہوتے ہیں، اور ان کے دفاتر بھی کراچی میں ہیں۔ کیا گندم، گنا، کپاس، دالیں، سبزیاں اور پھل سب کراچی میں پیدا ہوتے ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں ہے، اور آپ کی یہ دلیل یا تو نادانی کی وجہ سے ہے، یا لاعلمی کی وجہ سے، یا جان بوجھ کر لکھی گئی ہے—آپ خود فیصلہ کیجیے، کیونکہ نیت کی خبر صرف اللہ کو اور متعلقہ شخص کو ہوتی ہے۔
جہاں تک حکمرانی بہتر بنانے، اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے اور عوام کی بہبود کا تعلق ہے، تو اس کے لیے بہت سے دوسرے متبادل موجود ہیں۔
Saya
کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ اور اصل حقائق
Aijaz Mahar 
Category:Saya

Aijaz Mahar
Journalist and Writer at Saya Digital — covering Pakistan's top stories, opinions, and analysis.
More Stories

یومِ استحصالِ کشمیر: سندھ بھر میں 5 اگست کو کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا جائے گا، چیف سیکریٹری سندھ
2 hr ago
پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں مسلسل تنزلی، سینیٹر کامران مرتضیٰ کا سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس
29 July 2026
