کراچی: سیکریٹری کالجز سندھ ندیم میمن کی زیر صدارت سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ کے ذریعے نجی کالجز کی رجسٹریشن اور تجدید کے نفاذ پر اہم اجلاس منعقد ہوا۔ کراچی: اجلاس میں ڈائریکٹر انسپیکشنز عبدالقادر شاہ، سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ کے فوکل پرسن رانا راشد، سینئر منیجر آصف کریم، ٹیکنیکل ماہرین، لیگل اسپیشلسٹ، سافٹ ویئر منیجر اور ایڈیشنل سیکریٹری مختیار ملاح سمیت اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں نجی کالجز کی رجسٹریشن اور تجدید کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے اور سافٹ ویئر انضمام پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ قانونی و تکنیکی رکاوٹوں کے خاتمے اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کے تحت طریقہ کار کو مزید آسان بنانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ سیکریٹری کالجز ندیم میمن نے پرائیویٹ کالجز کی رجسٹریشن کے لیے درکار تین اضافی درجات ختم کرتے ہوئے سیکشن افسر اور ڈپٹی سیکریٹری کے اختیارات واپس لے لیے۔ اب حتمی منظوری کا اختیار اسپیشل سیکریٹری کو ہوگا جبکہ ان کی عدم موجودگی میں سیکریٹری خود منظوری دیں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ رجسٹریشن کے نظام میں موجود تکنیکی خرابیاں فوری دور کی جائیں اور ٹرن اراؤنڈ ٹائم کو قابلِ تخصیص بنایا جائے۔ ہر درخواست کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ رکھا جائے تاکہ آئندہ کسی قانونی معاملے میں مسائل پیش نہ آئیں۔ سیکریٹری کالجز نے کہا کہ کاروباری برادری کے مطالبے کے مطابق غیر ضروری مراحل ختم کر دیے گئے ہیں اور اب نظام تیز، شفاف اور جوابدہ ہوگا۔ سافٹ ویئر سے متعلق تمام مسائل دو دن میں حل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ انہوں نے 28 فروری تک زیر التواء 22 لائسنس کیسز نمٹانے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ رجسٹریشن اور تجدید کے عمل میں نئے اور پرانے کالجوں کی واضح درجہ بندی کی جائے۔ سابقہ ریکارڈ اور ہسٹری کی جانچ متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کرے گا جبکہ سسٹم میں موجود غلطیاں فوری درست کی جائیں۔ ندیم میمن نے کہا کہ دنیا پیپر لیس نظام کی طرف جا رہی ہے، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل ڈیجیٹل نظام اپنانا ہوگا۔ تاخیر اور پیچیدگیاں قبول نہیں، مقررہ ٹائم فریم کے تحت تین روز میں کارروائی مکمل کرنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام دستاویزات کی ڈیجیٹل تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور محکمے کے اندر مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔


