loader image

Latest News & Article

Post: قیادتی تربیتی پروگرام سے پاکستانی میڈیا میں خواتین صحافیوں کا کردار مضبوط

قیادتی تربیتی پروگرام سے پاکستانی میڈیا میں خواتین صحافیوں کا کردار مضبوط

پریس ریلیز

کراچی: خواتین صحافیوں کے لیے ایک قیادتی تربیتی پروگرام کراچی میں Centre for Excellence in Journalism (سی ای جے) آئی بی اے سٹی کیمپس میں منعقد کیا گیا۔ یہ سیشنز 11 اور 12 فروری کو منعقد ہوئے، جن کا مقصد میڈیا سے وابستہ خواتین کو عملی قیادت، گفت و شنید، تحفظ اور فیصلہ سازی کی مہارتوں سے آراستہ کرنا تھا، جبکہ نیوز رومز، پریس کلبز اور صحافتی یونینز میں موجود صنفی چیلنجز پر بھی توجہ دی گئی۔

دو روزہ یہ تربیت IRADA – Foundation for Research and Advocacy کی جانب سے کینیڈین فنڈ فار لوکل انیشی ایٹوز (CFLI) کے تعاون سے منعقد کی گئی، جس میں کراچی سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین صحافیوں نے شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد قیادت کے مواقع پر غور، ساختی رکاوٹوں کا سامنا اور میڈیا اداروں میں صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا تھا۔

تربیت کے دوران انٹرایکٹو سیشنز، مباحثوں اور عملی مشقوں کے ذریعے شرکاء نے یہ جائزہ لیا کہ پاکستانی میڈیا میں قیادت کیسے کام کرتی ہے اور خواتین کس طرح مردوں کے زیر اثر سمجھے جانے والے شعبوں میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔

پہلے روز کی تربیت میں قیادت کی بنیادوں اور نیوز رومز میں طاقت کے ڈھانچوں کو سمجھنے پر توجہ دی گئی۔ سیشنز میں قیادتی صلاحیتوں، صنفی تنخواہی فرق، ترقی کے مواقع میں رکاوٹوں، اسائنمنٹس اور پروموشنز پر گفت و شنید، اور امتیازی رویوں کا مقابلہ کرنے جیسے موضوعات شامل تھے۔

دوسرے روز توجہ نیوز روم سے باہر قیادت پر مرکوز رہی، خصوصاً پریس کلبز، یونینز اور صحافتی تنظیموں میں خواتین کی نمائندگی پر۔ شرکاء نے پریس کلب سیاست، گیٹ کیپنگ کے رجحانات اور نمائندہ اداروں میں خواتین کی کم شمولیت کے اسباب پر تبادلہ خیال کیا۔

تربیت میں انتخابات میں حصہ لینے، اتحاد سازی، پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے اور ادارتی و انتظامی فیصلوں میں قیادت کے عملی طریقوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ نیٹ ورکنگ، مینٹورشپ اور اجتماعی طاقت کو طویل مدتی پیشہ ورانہ ترقی اور ادارہ جاتی تبدیلی کے اہم ذرائع کے طور پر اجاگر کیا گیا۔

اسی نوعیت کی تربیت اس سے قبل دسمبر 2025 میں اسلام آباد اور جنوری 2026 میں لاہور میں بھی منعقد کی جا چکی ہے۔

آئی آر اے ڈی اے کی پروگرام منیجر سلویٰ رانا نے کہا:
“اس قیادتی تربیتی پروگرام کے ذریعے ہمارا مقصد صرف مہارتوں کی فراہمی نہیں بلکہ خواتین کو طاقت کے ڈھانچوں کو سمجھنے، چیلنج کرنے اور اخراجی رویوں کا مقابلہ کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ خواتین صحافیوں کی قیادت، تحفظ اور اجتماعی قوت میں سرمایہ کاری کے ذریعے ہم ایک زیادہ شمولیتی اور جوابدہ میڈیا سیکٹر کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں۔”

صحافی جیوتی شری مہیشوری نے کہا:
“یہ دو روزہ تربیت میرے لیے نہایت مفید رہی۔ گروپ سرگرمیوں اور کھلے مباحثوں کے ذریعے ہم نے قیادت، نیوز روم چیلنجز، نیٹ ورکنگ اور پریس کلبز و یونینز میں خواتین کے کردار پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ لبنیٰ جیرار نقوی اور وقاص نعیم کے سیشنز نہایت بصیرت افروز اور عملی نوعیت کے تھے، جنہوں نے ہمیں میڈیا میں طاقت کے ڈھانچوں کو بہتر طور پر سمجھنے اور بطور ابھرتی ہوئی قائد اعتماد پیدا کرنے میں مدد دی۔”

لبنیٰ جیرار نقوی، جو میڈیا ٹرینر، صحافی، International Federation of Journalists کی پاکستان جینڈر کوآرڈینیٹر اور Karachi Union of Journalists کی جنرل سیکریٹری بھی ہیں، نے کہا:
“پاکستانی خواتین صحافی اس قسم کی تربیت سے فائدہ اٹھاتی ہیں جو انہیں بااختیار بناتی ہے اور میڈیا میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی اوزار فراہم کرتی ہے۔ آئی آر اے ڈی اے کو چاہیے کہ وہ مزدور حقوق اور یونینز و پریس کلبز کی اہمیت جیسے موضوعات پر مزید تربیت کا اہتمام کرے تاکہ خواتین میڈیا ورکرز کو استحصال سے بچایا جا سکے۔ یہ ورکشاپ اس لیے اہم تھی کہ اس میں قیادت اور تحفظ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا گیا اور شرکاء کو حقیقی زندگی کے ممکنہ حالات پر غور و فکر کا موقع ملا۔”

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn