سندھ اسمبلی کی میزبانی میں منعقد ہونے والی ساتویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس اور دوسری مشترکہ سی پی اے ایشیا و جنوب مشرقی ایشیا ریجنل کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی۔ اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ تھے۔ کانفرنس کے اختتام پر کراچی ڈکلریشن کی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر سندھ اسمبلی کے اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی میں پہلی بار عالمی پارلیمانی نمائندوں کی میزبانی ایک تاریخی پیش رفت ہے، جو ادارہ جاتی اعتماد، شفافیت اور کھلے پن کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سی پی اے ایشیا کانفرنس کراچی میں صرف ہوٹلوں تک محدود رہی، تاہم اس بار اسمبلی کی عمارت کو عالمی کانفرنس کے لیے کھولا گیا۔ اسپیکر نے بتایا کہ کانفرنس کے انعقاد کے لیے اسمبلی کے افسران، عملے اور اراکین نے دن رات محنت کی۔ محدود وسائل کے باوجود پرانی اور نئی عمارت کو مکمل طور پر عالمی کانفرنس کے مقام میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر مشکل تھا لیکن باعثِ فخر بھی تھا۔ انہوں نے شرکاء کی موجودگی کو کانفرنس کی اصل کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نمائندوں کی شرکت، مشاورت اور تجاویز نے اس اجتماع کو بامقصد اور مؤثر بنایا۔ ان کے مطابق کانفرنس میں اعتماد، شمولیت، جدت اور امن جیسے موضوعات پر سنجیدہ اور مستقبل پر نظر رکھنے والے مباحث ہوئے۔ اسپیکر نے کہا کہ ان مباحثوں میں پارلیمانی احتساب، ذمہ دارانہ جدت، نوجوانوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کی شمولیت، اور امن و جمہوری استحکام میں پارلیمان کے کردار جیسے اہم چیلنجز پر غور کیا گیا۔ کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن (سی پی اے) کے سیکریٹری جنرل اسٹیفن ٹوِگ نے کانفرنس میں شرکت کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی اور میزبان ٹیم نے شاندار انداز میں کانفرنس منعقد کر کے مثالی میزبانی کا ثبوت دیا ہے، جس پر وہ انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس تنظیم کے لیے ایک اہم اور مثبت پیش رفت ہے، جبکہ آئندہ سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس سری لنکا میں منعقد کی جائے گی۔ اسٹیفن ٹوِگ کے مطابق ’’مستقبل کی پارلیمانیں: اعتماد، شمولیت، جدت اور امن‘‘ جیسے موضوعات آج کے دور میں نہایت اہم ہیں، جو نہ صرف اس خطے بلکہ پوری کامن ویلتھ کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سی پی اے کا نیا اسٹریٹجک پلان اسی مہینے لندن میں لانچ کیا جائے گا، جو 2030 تک پارلیمانوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق سی پی اے کے تین بنیادی مقاصد پارلیمانوں کو مضبوط کرنا، تربیت فراہم کرنا اور مشترکہ اقدار کو فروغ دینا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صنفی برابری، معذور افراد، نوجوان، ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تبدیلی تنظیم کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا کو اس وقت جمہوریت، انسانی حقوق اور اعتماد سے متعلق چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ ماحولیاتی تبدیلی، تنازعات اور عدم استحکام عالمی مسائل بن چکے ہیں۔ اسٹیفن ٹوِگ نے کہا کہ کراچی ڈیکلریشن ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کا باہمی تعاون سی پی اے کی اصل طاقت ہے، جبکہ علاقائی فورمز تنظیم کی روح اور بنیادی قوت ہیں۔ سری لنکا کے نائب اسپیکر ڈاکٹر رضوی صالح نے کانفرنس کو یادگار اور انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی اور سی پی اے سندھ برانچ نے شاندار میزبانی کر کے ایک اعلیٰ روایت قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی قیادت قابلِ تعریف اور مثالی رہی۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کی منصوبہ بندی سے لے کر مہمانوں کی سہولیات تک اسپیکر کی ذاتی دلچسپی نمایاں رہی، جس کے باعث پارلیمانی میزبانی کا ایک نیا معیار قائم ہوا۔ سری لنکا کے نائب اسپیکر کے مطابق آئندہ سی پی اے کانفرنس کولمبو، سری لنکا میں منعقد ہوگی، جبکہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کولمبو کانفرنس ایک بڑا چیلنج محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ اسمبلی کی ٹیم نے انتھک محنت، ذمہ داری اور فخر کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے کانفرنس کو مزید وقار ملا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پارلیمانی جمہوریت اور علاقائی تعاون کے حوالے سے اپنے عزم کا ایک بار پھر اظہار کیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے دیا گیا استقبالیہ سندھ کی ثقافت اور روایتی مہمان نوازی کا خوبصورت عکس تھا، جس میں مہمانوں کے لیے گرمجوشی اور بھائی چارے کا ماحول نظر آیا۔ مالدیپ کے نائب اسپیکر اور ایشیا ریجن سے سی پی اے (کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن) کی بین الاقوامی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن احمد ناظم نے کہا کہ وہ اور ان کی ٹیم سری لنکا میں ہونے والی مجوزہ کانفرنس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ کانفرنس کی تیاریوں کے لیے اپنی ٹیم کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ کانفرنس کو کامیاب بنایا جا سکے۔ احمد ناظم نے کانفرنس کی کامیابی میں کردار ادا کرنے والے تمام افراد کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے میزبان ملک پاکستان، سندھ اسمبلی اور انتظامی کمیٹی کی مہمان نوازی اور بہترین انتظامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مہمانوں کی سہولیات کا خصوصی خیال رکھا گیا، جو قابلِ تعریف عمل ہے۔ احمد ناظم کے مطابق مقررین، پینلسٹس اور ماڈریٹرز کی بصیرت افروز گفتگو نے کانفرنس کے مباحثے کو مزید مؤثر اور اہم بنایا، جبکہ تمام نمائندوں کی فعال شرکت اور تعاون نے کانفرنس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سندھ اسمبلی کے اسپیکر کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے نہایت شاندار اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ احمد ناظم نے مزید کہا کہ آئندہ اپریل میں مالدیپ اس کانفرنس کی میزبانی کرے گا، جبکہ موجودہ کانفرنس نے ایک ایسا معیار قائم کیا ہے جس پر آنے والے میزبانوں کو عمل کرنا ہوگا۔ ملائیشیا کی ریاستی اسمبلی پیراک کے اسپیکر داتو محمد ظاہرعبدالخالد نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملائیشیا سے آئے تمام نمائندوں کا تعارف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس نے پارلیمان کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے اور شمولیت، اعتماد، جدت اور امن کے فروغ کے لیے پارلیمان کے کردار کو مضبوط بنایا ہے۔ داتو محمد ظاہر عبدالخالد نے سندھ حکومت کی مہمان نوازی اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شاندار انتظامات کے باعث نمائندوں کو ایک سازگار اور یادگار ماحول فراہم کیا گیا۔ انہوں نے سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور وزیراعلیٰ سندھ کی قیادت اور تعاون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سرپرستی میں کانفرنس کامیابی سے مکمل ہوئی۔ ان کے مطابق سی پی اے ایگزیکٹو کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر کرسٹوفر کلیلا کی رہنمائی اور حکمت عملی بھی قابلِ تعریف رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانفرنس کے دوران عوام کا اداروں پر اعتماد، خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اور امن و مفاہمت کے لیے پارلیمان کے کردار جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی بحث ہوئی۔ تقریب سے پنجاب کے ایم پی اے ذوالفقار علی شاہ، سندھ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف علی خورشیدی اور بلوچستان کے ایم پی اے فرح عظیم شاہ نے بھی خطاب کیا۔ سندھ اسمبلی کے اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے کراچی ڈکلریشن پیش کیا، جبکہ کانفرنس کے اختتام پر کراچی ڈکلریشن کی منظوری دی گئی۔ اعلامیے میں جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے، عوامی اعتماد کی بحالی، شمولیتی پارلیمان، ذمہ دارانہ جدت اور پائیدار امن کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ کراچی ڈکلریشن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پارلیمان کا مؤثر کردار، آئین کی بالادستی اور انتظامیہ کا احتساب نہایت ضروری ہے۔ اعلامیے میں پارلیمانی نگرانی کے نظام، خصوصاً پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کو مضبوط بنانے، شفاف حکمرانی اور عوامی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کی حمایت کی گئی ہے۔ ڈکلریشن میں خواتین، نوجوانوں، معذور افراد، مذہبی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کی پارلیمانی عمل میں مؤثر شمولیت یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمانی قواعد و ضوابط میں اصلاحات، عوامی آگاہی، جمہوری تعلیم اور صلاحیت بڑھانے کے پروگراموں کو فروغ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ کراچی ڈکلریشن میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے ڈیجیٹل گورننس، اوپن پارلیمنٹ اقدامات، غلط معلومات، نفرت انگیز مواد اور ڈیجیٹل ہراسانی کی روک تھام پر زور دیا گیا ہے، جبکہ اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں امن، سماجی ہم آہنگی، تنازعات کے پرامن حل، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور موسمیاتی طور پر متاثرہ علاقوں کے تحفظ میں پارلیمان کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی پارلیمانی تعاون، پارلیمانی سفارت کاری اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی روابط کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کراچی ڈکلریشن کی سفارشات کو رکن ممالک میں عملی قانون سازی اور ادارہ جاتی اقدامات کے ذریعے نافذ کیا جائے گا تاکہ جمہوریت، امن اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنایا جا سکے۔ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے مہمانِ خصوصی کے طور پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سی پی اے ایشیا کے اہم اجلاس کی اختتامی تقریب میں شرکت ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ کراچی میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس وقار، نظم و ضبط اور سندھ کی روایتی مہمان نوازی کے ساتھ کامیابی سے منعقد ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے مہمانوں کو کراچی آمد پر خوش آمدید کہا اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور انتظامی ٹیم کو کانفرنس کی کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ سی پی اے ایشیا اور سی پی اے ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے وفود کو ایک جگہ جمع کرنا آسان کام نہیں تھا، جو بہتر منصوبہ بندی اور ہم آہنگی سے ممکن ہوا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کی قیادت کا ایک ساتھ بیٹھنا جمہوری اعتماد کا مضبوط پیغام ہے، کیونکہ جمہوریت اختلاف کے باوجود احترام کے ساتھ مل کر کام کرنے سے مضبوط ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں ہونے والے مباحثے سنجیدہ اور عملی تھے، جن سے بروقت اور مؤثر تجاویز سامنے آئیں۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اعتماد صرف تقاریر سے نہیں بلکہ شفافیت، جوابدہی، انصاف اور عوامی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال سے قائم ہوتا ہے، جس میں پارلیمان کا مرکزی کردار ہے۔ انہوں نے شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور معذور افراد کی حقیقی نمائندگی مضبوط جمہوریت کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدت صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، شفاف ڈیٹا اور مؤثر نگرانی بھی جدت کا حصہ ہیں۔ وزیراعلیٰ نے امن کو انصاف، برداشت اور امید سے جوڑتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی اور ماحولیاتی چیلنجز کے دور میں امن کا قیام قانون سازی کی اولین ترجیح ہے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت پارلیمانی جمہوریت اور علاقائی پارلیمانی تعاون کو بڑی اہمیت دیتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کراچی ڈکلریشن کو محض ایک دستاویز نہیں بلکہ عملی عہد کے طور پر نافذ کیا جائے گا۔ آخر میں انہوں نے سی پی اے کی قیادت، وفود، انتظامیہ، میڈیا اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کانفرنس کے اختتام کا اعلان کیا۔ دوسری جانب سندھ اسمبلی کے لان میں سندھ کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے سندھ کلچرل بازار لگائی گئی، جہاں روایتی کھانے، دستکاری اور ثقافتی اشیاء پیش کی گئیں۔


