کراچی: سندھ اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی جمال احمد نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سمیت پورے سندھ میں عوامی مسائل اب بھی حل طلب ہیں اور حکومت کو ان پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بعض سیاسی شخصیات کی ترقی کی رفتار اتنی تیز رہی ہے کہ “چین نے بھی اتنی ترقی نہیں کی ہوگی جتنی ایک رکن اسمبلی نے کر لی ہے۔”
جمال احمد نے بلدیہ فیکٹری کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں ایم کیو ایم کارکنوں کو بالآخر عدالتوں سے ریلیف ملا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی سرکاری اسکول خستہ حالی کا شکار ہیں۔ ایک اسکول کی عمارت مخدوش ہونے پر اسے بحال کرنے کے بجائے بند کر دیا گیا، جبکہ نیو کراچی میں ایک ایسا اسکول بھی موجود ہے جہاں طلبہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں لاپتہ افراد کے ساتھ ساتھ “لاپتہ اسکولوں” کا مسئلہ بھی موجود ہے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ کراچی میں پانی کی قلت سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے اور شہری بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ انہوں نے کے ایم سی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ بڑھائی گئی تنخواہیں اب تک کیوں ادا نہیں کی گئیں۔
جمال احمد نے کہا کہ کراچی کے عوام آج بھی متعدد شہری مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور حکومت کو ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے کراچی کے مسائل کی جانب توجہ دلانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے معاشی مرکز کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں

