کراچی: سندھ اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی عامر صدیقی نے سندھ حکومت کی پالیسیوں اور بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے جو بجٹ پیش کیا ہے، کاش اس پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد بھی ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا ریونیو پیدا کرنے والا شہر ہے، مگر افسوس کہ اسی شہر کے منتخب نمائندوں کو اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے مقامی نمائندوں کی اسکیموں کو بھی بجٹ میں مناسب جگہ نہیں دی گئی۔
عامر صدیقی نے تعلیم کے شعبے کے لیے مختص فنڈز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر سیکڑوں ارب روپے تعلیم کے لیے رکھے گئے ہیں تو یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا یہ رقم صرف تنخواہوں پر خرچ ہو رہی ہے یا تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اٹھارویں آئینی ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے چند خاندان ضرور مضبوط ہوئے ہیں، لیکن عام عوام کو اس کے ثمرات نہیں مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے کے لیے بھی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، تاہم عوام آج بھی معیاری طبی سہولیات سے محروم ہیں۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ اگر سرکاری اسپتالوں کی صورتحال واقعی بہتر ہے تو عوامی نمائندے اور حکومتی شخصیات اپنا علاج نجی اسپتالوں کے بجائے انہی اداروں سے کروائیں۔ انہوں نے سکھر اور حیدرآباد کے سول اسپتالوں کی حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پورے سندھ میں برنس سینٹرز کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کے لیے کوئی مؤثر پالیسی نظر نہیں آتی جبکہ امن و امان کی صورتحال بھی تشویشناک ہے اور منشیات کا مسئلہ معاشرے میں خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
عامر صدیقی نے سوال اٹھایا کہ این ایف سی کے تحت ملنے والے فنڈز کہاں خرچ ہوئے اور صوبائی مالیاتی کمیشن (PFC) اب تک کیوں فعال نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میئر کراچی کو کم از کم 200 ارب روپے فراہم کیے جائیں تاکہ شہری مسائل حل کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کو غیر ترقیاتی اخراجات کم کرکے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آج سے مستقبل کی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں صوبے کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر عامر صدیقی نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے ارکان مسلسل عوامی مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں، لیکن جب تک اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی، صوبے کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔

