کراچی: سندھ اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی قرۃ العین خان نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 3,562 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے اور اسے منظور بھی کر لیا جائے گا، لیکن اپوزیشن ارکان کے حلقوں کے لیے یہ بجٹ عملی طور پر “زیرو” حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اپوزیشن ارکان کے حلقوں کے لیے بھی ترقیاتی اسکیمیں رکھی جائیں گی، تاہم اس وعدے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
قرۃ العین خان نے کہا کہ کراچی کے منتخب نمائندوں کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے، حالانکہ یہی شہر ملک کو سب سے زیادہ ٹیکس فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، سیوریج کا نظام درہم برہم ہے اور شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں فٹ پاتھوں پر منشیات کے اڈے قائم ہیں، جو نوجوان نسل کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق جو کراچی کبھی “شہرِ روشنی” کے نام سے جانا جاتا تھا، آج بدترین شہری مسائل کا شکار ہے۔
ایم کیو ایم رکن اسمبلی نے کہا کہ کراچی کو صرف ڈیفنس اور کلفٹن تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی لاکھوں لوگ بنیادی سہولیات کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے ای چالان کے نظام پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو مسلسل بھاری جرمانوں کے ای چالان موصول ہو رہے ہیں، جن میں بعض اوقات 10،10 ہزار روپے تک کے جرمانے شامل ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوامی مشکلات کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ ان پر مزید مالی بوجھ ڈالنے پر۔
قرۃ العین خان نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے مسائل کے حل، انفراسٹرکچر کی بہتری اور شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہر کو اس کا جائز حق مل سکے

