واشنگٹن: ایران سے جنگ نے معاشی میدان میں امریکا کو ہلا کر رکھ دیا ۔ معیشت غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوگئی ۔ امریکا میں مہنگائی کا سونامی چل پڑا ۔ پٹرول کی قیمت میں40 فیصد تک کا اضافہ ہوچکا ہے ۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران جنگ کے باعث امریکا میں معاشی بھونچال آچکا ہے ۔ پٹرول کی قیمت میں 60 برس میں سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہوا ۔ اوسط قیمت چار ڈالر پندرہ سینٹ فی گیلن تک جاپہنچی ہے ۔ جنگ سے قبل یہ قیمت2.98 ڈالر تھی، بحری جہازوں ، کاروں اور گڈز کے اخراجات میں پہلے ہی 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے ۔ مارچ میں ہوائی کرایوں میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا اور سالانہ بنیاد پر یہ 14.9 فیصد زیادہ ہیں ۔ ڈلیوری سروسز کمپنیوں نے ترسیل کے اخراجات بڑھنے پر قیمت بڑھادی
اشیائے خورونوش ، ملبوسات ، استعمال شدہ گاڑیوں اوردیگر روزمرہ استعمال کی چیزوں میں مختلف تناسب سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ امریکا بھرمیں صارفین کے اعتماد میں نمایاں کمی بھی ریکارڈ کی جارہی ہے ۔ صورتحال نے فیڈرل ریزرو کے لیے مہنگائی پرقابو پانا مشکل بنا دیا ۔ امریکی معاشی ماہرین سوال کررہے ہیں کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں یہ جھٹکا کتنے عرصے تک برقراررہے گا۔


