واشنگٹن: امریکی اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ صدرٹرمپ ایران سے ایک ہزار پاؤنڈ افزودہ یورینیئم نکالنے کےلیے فوجی آپریشن پر غور کررہے ہیں ۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام نےیورینیم حاصل کرنے کے مشن کوپیچیدہ اورخطرناک قراردےدیا۔ فنانشل ٹائمزسے گفتگوکرتے ہوئےامریکی صدرنے ایران کے تیل اور خارگ جزیرے پر قبضے کا عندیہ دے دیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ایران سے ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم نکالنےکے لیے فوجی آپریشن پرغور کر رہے ہیں۔ اگر ایران مذاکرات میں یورینیم نہیں دیتا تو صدر ٹرمپ طاقت کا استعمال کرسکتے ہیں ۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یورینیم نکالنےکے پیچیدہ اور خطرناک مشن کےلیےفوج کو کئی روز تک ایران میں رکنا پڑےگا۔ صدر ٹرمپ نے ایران سے یورینیم نکالنے کا فیصلہ نہیں کیا، لیکن یہ آپشن موجود ہے ۔وائٹ ہاؤس کے مطابق پینٹاگون کاکام کمانڈر انچیف کےلیے زیادہ آپشن کی تیاری ہے، زیادہ آپشن کا مطلب یہ نہیں کہ صدر نے فیصلہ کرلیا۔ صدرٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کا تیل حاصل کرنا چاہتا ہے۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز سے گفتگوکرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس اقدام میں ایرانی جزیزےخارگ پرقبضہ بھی شامل ہےاوریہ بااسانی ممکن ہے۔ ہمارے پاس بہت آپشن ہیں ایرانی تیل پر قبضہ کرنا پسندیدہ آپشن ہے۔ لیکن امریکا میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ وہ بیوقوف ہیں۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق خطے میں تعینات فوجیوں کو اصفہان کی جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کےلیےاستعمال کیا جا سکتا ہے۔پینٹاگون نے مزیددوہزارفوجی مشرق وسطی بھیجے ہیں جس سے علاقے میں امریکی فوجیوں کی تعدادپچاس ہزار سےتجاوزکرگئی ہے۔


