لندن :امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب دنیا بھر میں ایندھن کے بحران کے خدشات بڑھنے لگے ۔آئل سیکٹر کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ حالات یہی رہے توخام تیل کی قیمت200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
بلوم برگ کا کہنا ہے کہ دنیا نے صورتحال کی سنگینی ابھی تک نہیں سمجھی ۔امریکی حکام اور وال اسٹریٹ ماہرین ایک نئے امکان پر غور کررہے ۔ یعنی تیل کی قیمتیں 200ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہیں ۔ماہرین کے مطابق ایشیا کے بعد ایندھن کی قلت مغربی ممالک کی جانب پھیلے گی ۔ یورپ کو آئندہ ہفتوں میں ڈیزل کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ عالمی تیل کی اوسط سپلائی ،جنوری اور فروری میں یومیہ 106.9 ملین بیرل یومیہ تھی ۔جس میں تقریباً 11.1 ملین بیرل یومیہ کی کمی آچکی ہے ۔ سعودی عرب اور یواے ای متبادل راستوں سے یہ کمی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے 2 ملین بیرل یومیہ کا ذخیرہ بھی جاری کیا، اور دیگراقدامات سے3.7 ملین بیرل یومیہ کا فرق پورا کیا امریکی اور دیگر ممالک نے بھی اسٹاک ریلیز کیا۔
ٹوٹل انرجیز کے چیف ایگزیکٹو پاتریک پویان نے کہا یہ بحران تین یا چار ماہ مزید رہا تو دنیا کے لیے بڑا مسئلہ بن جائے گا ۔ تیل و گیس کی پیداواری صلاحیت میں کمی کےسنگین نتائج ہوں ۔ اس سے قبل توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول بھی موجودہ بحران کو سنگین قرار دے چکے ہیں


