اسلام آباد : مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور امریکا ایران جنگ کے بندی کے لیے حکومت پاکستان کی سفارتی کوششوں میں مزید تیزی آگئی ۔ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے ۔ سعودی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمدبن سلمان نے خطے کی صورت حال ،علاقائی ،عالمی امن واستحکام سے متعلق اموراورجاری سفارتی کوششوں پرتبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نےخطے کی سلامتی کو درپیش خطرات پرتشویش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے سعودی سلامتی اور خودمختاری پرحملوں کی مذمت کی۔ انہوں نےکہا کہ ہمیشہ اورمضبوطی سے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے ایکس پراپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کی رضامندی کے بعد پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے جامع تصفیے کےلیے بامعنی مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کو تیار ہے۔ اس پاکستان اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر اپنے پیغام میں امریکی صدرٹرمپ، اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ٹیگ کیا۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہبازشریف کا ٹویٹ اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر شیئر کردیا۔
سی این این کا کہنا ہے کہ ایران امریکی نائب صدرجے ڈی وینس کے ساتھ بات چیت کےلیے تیارہے۔تاہم تہران کو اسٹیووٹکوف اورجیرڈ کشنرسے مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں۔۔امریکی ٹی وی کا دعوی ہے کہ ایران کا پیغام بیک چینل سے امریکا کو پہنچایا گیا۔۔امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایران کو صدرٹرمپ کےنامزد کردہ شخص سے ہی مذاکرات کرنا ہونگے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی ،ترکیہ اورمصری حکام 48 گھنٹے میں ایران، امریکا مذاکرات کا بندوبست کرنے کےلیے کوشاں ہیں۔۔


