ضلع لاڑکانہ کے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دوسرے بڑے شہر باڈہ کو تحصیل کا درجہ دلوانے کے لیے جاری جدوجہد کو سات برس مکمل ہو گئے ہیں اور اس سلسلے میں شہریوں نے مسلسل 347ویں ہفتے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا، جسے کسی بھی تحصیل کے حصول کے لیے طویل ترین جاری عوامی تحریکوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
تعلقہ موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر زیب علی ساریو کی قیادت میں شہریوں نے باڈہ میڈیا ہاؤس سے ٹاؤن ہال تک ریلی نکالی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر باڈہ کو تحصیل کا درجہ دینے کے مطالبات درج تھے۔
احتجاجی ریلی میں شہر کی سیاسی، سماجی، علمی، ادبی، صحافتی اور کاروباری تنظیموں کے رہنماؤں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں اثر امام، کامریڈ اصغر نوناری، محمد علی خشک، دودو دیشی، عالم بروہی، منور نوناری، سارنگ امر، قاسم چنہ، صفر مغیری، فدا مغیری، مرتضیٰ گوپانگ، بخشل مگسی، زاہد پٹھان، حسن کلہوڑو، محمد امین سیال، نجف کھوکھر، فقیر جلال ساریو، علی زہری، سکندر پیرزادہ اور علی رضا جونیجو سمیت دیگر شامل تھے۔
اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باڈہ کے مکین گزشتہ سات برسوں سے پُرامن احتجاج کے ذریعے اپنا مطالبہ پیش کر رہے ہیں، لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق وزرائے اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور سید مراد علی شاہ اپنے اپنے ادوار میں باڈہ کو تحصیل کا درجہ دینے کا اعلان کر چکے ہیں، مگر افسوس کہ آج تک اس اعلان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور نہ ہی شہر کو میونسپل کا درجہ دیا گیا ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ مختلف انتخابی مہمات کے دوران مقامی رہنماؤں نے بھی باڈہ کو تحصیل کا درجہ دلوانے کے وعدے کر کے شہریوں سے ووٹ حاصل کیے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد وہ وعدے پورے نہیں کیے گئے، جس سے عوام میں شدید مایوسی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باڈہ کو تحصیل کا درجہ ملنے سے شہر اور گرد و نواح کے علاقوں کے بنیادی مسائل حل ہوں گے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، ترقیاتی منصوبوں کا آغاز ہوگا اور علاقے کی مجموعی ترقی ممکن ہو سکے گی۔
مظاہرین نے سندھ حکومت اور مقامی منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ باڈہ کے عوام کے جائز مطالبے کو فوری طور پر تسلیم کرتے ہوئے شہر کو تحصیل کا درجہ دیا جائے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا


