اسلام آباد : وفاقی حکومت نے ملکی معیشت پر دباؤ کم کرنے اور ایندھن کی بچت کے لیے سخت ترین کفایت شعاری اقدامات کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔ وزیراعظم کی ہدایت پرنافذ ہونے والےاس پلان کے تحت نہ صرف سرکاری افسراوروزرا کی مراعات میں کٹوتی کی گئی ہےبلکہ تعلیمی اداروں اوردفاترکےلیے بھی نیا شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں کہا آئندہ تیل کی مزید قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالیں گے، حکومتِ پاکستان نے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ‘بچت مہم’ کا باقاعدہ آغازکردیا ہے۔ نئے نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے لیے پیٹرول کا کوٹہ فوری طورپر50 فیصد کم کردیا گیا ہےجبکہ وفاقی و صوبائی اداروں کی 60 فیصد گاڑیاں دو ماہ کے لیے سڑکوں سے ہٹا لی جائیں گی ۔ وزیراعظم سمیت کابینہ ارکان اور مشیروں نے دو ماہ کی تنخواہ اورمراعات رضاکارانہ طور پر چھوڑنے کا اعلان کیا ہےجبکہ ارکانِ اسمبلی کی مراعات میں بھی 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی ۔
تعلیمی اور دفتری نظام میں بھی بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ 16 سے 31 مارچ تک اسکولوں میں موسم بہار کی تعطیلات ہوں گی، جبکہ ہائر ایجوکیشن کے لیے سو فیصد آن لائن کلاسزکا حکم دیا گیا ہے۔ سرکاری دفاتر میں 50 فیصد ملازمین ورک فرام ہوم کریں گے، تاہم بینکنگ اورضروری سروسز پراس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ وزیراعظم نے گزشتہ رات قوم سے خطاب میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا عندیہ دیا ۔حکومت نے نجی شعبے کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ ایندھن بچانے کے لیے چار روزہ ورک ویک کا ماڈل اپنائیں


