لندن: بھارت کے’شائننگ انڈیا‘اوردنیا کی بڑی معیشت بننے کے دعوے حقیقت کے برعکس نکلے۔ برطانوی جریدے’دی اکانومسٹ‘نے اپنی حالیہ رپورٹ میں مودی سرکار کے معاشی غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی معیشت اتنی بڑی نہیں جتنی پیش کی جا رہی ہے، بلکہ نئے اعداد و شمارمودی حکومت کی ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں،
برطانوی جریدے ‘دی اکانومسٹ’ نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں جس بھارت کو چوتھی بڑی معیشت قراردیا جا رہا تھا، رواں سال فروری کے اعداد و شمار نے ان تمام دعوؤں کا پول کھول دیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کا جی ڈی پی گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.3 فیصد کم رہا، جو ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے لیے انتہائی تشویشناک ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی غیر مستقل پالیسیوں، ریکارڈ توڑ بیروزگاری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی نے بھارتی معیشت کی کمر توڑ دی ہے،، یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں اب بھارت کو ایک ‘رسک مارکیٹ’ تصور کیا جا رہا ہے
ماہرینِ معیشت کے مطابق بھارت کا اقتصادی قوت بننے کا خواب مودی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے زمین بوس ہو چکا ہے،،بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اندرونی خلفشار نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ ‘دی اکانومسٹ’ کی اس رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ مودی کا ‘شائننگ انڈیا’ صرف ایک سیاسی اسٹنٹ تھا، جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے


