کابل : افغانستان میں طالبان رجیم نے خواتین پر تعلیم کی پابندی کے بعد میڈیا سے رابطہ بھی منقطع کر دیا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن کو صرف اس لیے بند کر دیا گیا کیونکہ وہاں طالبات کی فون کالز موصول ہو رہی تھیں، افغان میڈیا اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بزدلانہ اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
افغان ذرائع ابلاغ ‘افغانستان انٹرنیشنل’ اور ‘ہشت صبح’ کے مطابق، طالبان نے ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن کی نشریات صرف اس بنا پر معطل کر دیں کہ وہاں تعلیم سے محروم لڑکیوں کی کالز لی جا رہی تھیں۔ یہ ریڈیو اسٹیشن ان لڑکیوں کے لیے تعلیم کا واحد ذریعہ تھا جن پر اسکولوں اور کالجوں کے دروازے پہلے ہی بند کیے جا چکے ہیں
افغان جرنلسٹس سینٹر’ نے اس واقعے کو آزاد میڈیا کے خلاف ایک کاری ضرب قراردیا ہے۔ مرکز کے مطابق، ریڈیو اسٹیشن ان طالبات کے لیے تعلیمی پروگرامز نشر کرتا تھا جو گھروں میں قید ہو کر رہ گئی ہیں۔ طالبان کے اس اقدام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف خواتین کی تعلیم بلکہ ان کی آواز اور ان کے میڈیا سے رابطے کو بھی اپنے آمرانہ اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
انسانی حقوق کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ خواتین کی تعلیم اور میڈیا تک رسائی پر پابندیاں بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، طالبان رجیم اپنے قدامت پسند اور انتہا پسندانہ نظریات کو مسلط کر کے افغانستان کو تاریک دور میں دھکیل رہی ہے۔


