امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہفتے کے روز کیے گئے حملوں کے بعد ایرانی دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں اور میزائل حملوں کے باعث پاکستانی شہریوں نے جلدی میں ملک چھوڑنا شروع کر دیا اور بلوچستان کے تفتان بارڈر کے راستے وطن واپس پہنچنے لگے۔ اے ایف پی کے مطابق میرجاوہ اور تفتان کے سرحدی مقام پر لوگوں کا مسلسل آنا جانا جاری رہا جہاں مسافر بڑے بڑے بیگ اٹھائے پیدل سرحد عبور کرتے دکھائی دیے جبکہ مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں بھی موجود تھیں۔ 38 سالہ تاجر امیر محمد نے بتایا کہ تہران اور دیگر شہروں میں موجود پاکستانیوں نے اچانک روانگی اختیار کی جس سے ٹرانسپورٹ کا شدید مسئلہ پیدا ہو گیا، جبکہ 49 سالہ زائر ارشاد احمد نے کہا کہ ان کے ہاسٹل کے قریب فوجی اڈے سے میزائل فائر ہوتے دیکھے گئے جس کے بعد وہ پاکستانی سفارت خانے پہنچے جہاں سے انہیں بحفاظت نکالا گیا۔ اس دوران وزیرِاعظم شہباز شریف نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام سے اظہارِ تعزیت کیا اور کہا کہ ریاستی سربراہان کو نشانہ بنانا عالمی روایات کے خلاف ہے۔ تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک استاد ثاقب کے مطابق روانگی سے قبل صورتحال معمول کے مطابق تھی تاہم ہفتے کے حملوں کے بعد حالات نے انہیں شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا

