حالیہ دنوں میں امریکی افواج نے ایران کے سیکڑوں بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں، جس کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر جنگ کئی ہفتوں یا اس سے زیادہ جاری رہی تو امریکی فضائی دفاعی انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر کب تک برقرار رہ سکیں گے۔ ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی فضائی کارروائیوں کے جواب میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں اور اتحادی ممالک کو سینکڑوں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ اعلیٰ امریکی فوجی افسر جنرل ڈین کین کے مطابق امریکا نے اب تک سیکڑوں بیلسٹک میزائل تباہ کیے ہیں، تاہم یہ کامیابی مہنگے اور محدود تعداد میں دستیاب جدید انٹرسیپٹر میزائلوں کے استعمال کی قیمت پر حاصل ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خدشہ موجود ہے کہ کہیں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے انٹرسیپٹر ختم نہ ہو جائیں جبکہ ایران کے پاس ابتدائی اندازوں کے مطابق تقریباً 2,500 بیلسٹک میزائل موجود تھے، جو ممکنہ طور پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ دفاعی ذخائر سے بھی زیادہ ہیں، تاہم اب دونوں ممالک ایرانی لانچرز اور ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنا کر اس خطرے کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

