تہران : ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران نے بھی اسرائیل کیخلاف فاتح خیبر کے نام سے میزائل آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اسرائیل اور امریکا کے حملوں پرسخت ردِعمل دیتے ہوئےخبردار کیا ہے کہ اب صورتحال ان کے قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈزکا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف میزائل ڈرون حملوں کی پہلی لہرلانچ کردی ہے جبکہ غیر ملکی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنگی طیارے اور میزائل عراق کی فضائی حدود میں دیکھے گئے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیل پر75میزائلوں سے حملہ کیا ہے ۔ یہ میزائل اسرائیل کے شمالی علاقوں کی جانب داغے گئے۔ ایرانی حملے کے بعد اسرائیل نے شہریوں کو شیلٹرز میں جانے کی ہدایت کردی ہے اور کہا ہے کہ خطرے سے نمٹنے کیلئے دفاعی نظام کو آپریٹ کررہے ہیں۔ دوسری جانب۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بحرین کے دارالحکومت مناما میں دھماکےسنےگئے، دھماکوں کے بعد بحرین میں خطرےکےسائرن بجادیےگئے۔ بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا ہے شہری فوری طور پر قریب ترین محفوظ مقام پرچلے جائیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق بحرین میں امریکی بیس کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ خبر ایجنسی کا بتانا ہے بحرین میں امریکی بحری بیس کے علاقے جفیر سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ بحرین میں امریکی بحری بیڑہ موجود ہے اور بحرین نے ملک میں حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنےایک بیان میں امریکا اور اسرائیل کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تمہیں پہلے ہی خبردار کیا تھا! انہوں نے مزید کہا کہ اب تم نے ایک ایسے راستے پر قدم رکھ دیا ہے جس کا انجام اب تمہارے اختیار میں نہیں رہا۔
ادھر غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ تہران ان حملوں کا جواب دینے کے لیے بھرپور تیاری کر رہا ہے۔ ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کی گئی جارحیت کا جواب انتہائی سخت اور تباہ کن ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری پر ہونے والے کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور جوابی کارروائی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔


