افغان طالبان کی نمک حرامی پر پاکستان کی جانب سے شروع کیا گیا آپریشن ’غضب للحق‘ نہ صرف عسکری بلکہ لسانی اعتبارسے بھی توجہ حاصل کیے ہوئے ہے۔ یہ نام اپنی ترکیب ، معنی اورتاریخی پس منظرکے باعث سوشل میڈیا فورمزپربھی زیر بحث آرہا ہے ۔ یہ آپریشن افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر اشتعال انگیز کارروائیوں ، پاکستان کے اندر دہشتگردی کی غیر اعلانیہ حمایت اور دہشتگردوں کی پشت پناہی کے جواب میں شروع کیا گیا ہے ۔
ماہرین لسانیات بتاتے ہیں غضب للحق‘عربی زبان کی ترکیب ہے۔ لفظ’غضب‘شدید غصے، جوشیلے ردعمل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ محض جذباتی غصہ نہیں ہوتا، مذہبی یا اخلاقی سیاق سباق میں دیکھا جائے تو یہ وہ رد عمل ہے جو اس وقت جنم لیتا ہے جب حق تلفی، ناانضافی یا زیادتی کے جواب میں صبر کی حد پارہوجائے ۔ دوسرا حصہ’لِل‘۔۔ ’لام‘ اور’ال‘ کا مرکب ہے جس کا مطلب ہے ’کے لیے‘ یا ’کی خاطر‘۔ اور تیسرا لفظ ’حق‘ عربی میں سچائی، انصاف ، درست کے معنی رکھتا ہے۔ اس طرح مکمل ترکیب ’غضب للحق‘کو عربی قواعد کی رو سے یوں تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ ’حق کے لیے غضب ‘ یا ’انصاف کے لیے ردعمل‘۔ اصطلاحی طور پر دیکھا جائے تو یہ نام حملہ جارحیت نہیں بلکہ اپنے حق یا دفاع کے لیے لازم اقدام ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لفظ ’غضب‘ عربی اوراسلامی روایت میں کبھی منفی معنی میں نہیں بلکہ اکثر حق کی حمایت میں طاقتورردعمل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں بڑے آپریشنزمیں ضرب عضب کا نام خاص طور پر نمایاں رہا۔ یہ آپریشن 2014 میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دور میں شمالی وزیرستان میں شروع کیا گیا تھا ۔ ’ضرب‘ کا مطلب وار کرنا، چوٹ لگانا جبکہ ’عضب‘ رسول اللہ کی تلوار کا نام تھا ۔ اس ترکیب کا مفہوم بنتا ہے ’فیصلہ کن ضرب‘ یا ’حق کی تلوار کا وار‘۔ ان کے بعد آنے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ملک بھر میں آپریشن رد الفساد 2017 میں شروع کیا ۔ اس کا معنی ہے ’فساد کا خاتمہ‘ یا ’بدامنی کا رد‘۔ یہ آپریشن اس نام میں بھی عربی زبان کے ذریعے ایک اخلاقی مقصد ظاہرکیا گیا تھا۔ گزشتہ برس پاکستان پر بھارتی حملے کے جواب میں شروع کیے گئے آپریشن کو’بنیان مرصوص‘ کا نام دیا گیا ۔ اس کا مطلب ہے ’سیسہ پلائی دیوار‘۔ یہ ترکیب قرآن کریم کی آیت سے لی گئی ہے جس میں متحد ہو کر لڑنے والوں کو مضبوط دیوار سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اسی طرح حالیہ آپریشن’غضب للحق‘ بھی اسی روایت کا تسلسل نظر آتا ہے جس میں عربی ترکیب کے ذریعے ایک اخلاقی اور نظریاتی تاثردیا جاتا ہے ۔
بعض موقعوں پرکچھ آپریشنز کے لیے انگریزی نام بھی استعمال کیے گئے ۔ جیسا کہ 2019 بھارتی فضائیہ کے حملے کے جواب میں کی گئی کارروائی کو آپرشن سوئفٹ ریٹارٹ کا نام دیا گیا ۔ کارروائی کے دوران پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی مِگ 21 طیارہ گراکرپائلٹ ونگ کمانڈرابھی نندن ورتھمان کو گرفتارکیا۔ اسی دوران بوکھلاہٹ کی شکاربھارتی افواج نے اپنا ہی ہیلی کاپٹرتباہ کردیا جس کے نتیجے میں متعدد بھارتی اہلکارہلاک ہوئے۔ یہ نام مکمل طور پر انگریزی میں تھا اور اس کا مطلب تھا ’تیز اور فوری جواب‘۔ یہ ان چند مواقع میں سے ایک تھا جب پاکستانی فوجی کارروائی کا نام عربی یا مذہبی حوالوں کے بجائے انگریزی میں رکھا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ بھارت کے خلاف یہ آپریشن ٹھیک اسی تاریخ یعنی 27 فروری کو ہی کیا گیا۔ جب غضب للحق أفغانستان کے خلاف جاری ہے۔


