واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا اگلے تقریباً 10 دنوں میں جان لے گی کہ آیا امریکہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے گا یا عسکری کارروائی کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی امن کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں “معنی خیز معاہدہ کرنا ضروری ہے ورنہ بری صورتحال پیش آئے گی۔” حال ہی میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی تعیناتی بڑھا دی ہے، جبکہ سوئٹزرلینڈ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایران نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھے خط میں خبردار کیا کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف کسی بھی عسکری کارروائی میں اپنے فوجی اڈوں کا استعمال کرے گا تو وہ انہیں جائز ہدف سمجھے گا، تاہم ایرانی حکام نے کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ “بہت اچھے اجلاس” کر چکے ہیں، اور یہ کہ ایران کے ساتھ معاہدہ حاصل کرنا ماضی میں آسان ثابت نہیں ہوا، ورنہ بری چیزیں رونما ہو سکتی ہیں۔


