loader image

Latest News & Article

Post: سانحہ گل پلازہ: فائربریگیڈ کی پہلی گاڑیاں بے سروساماں آئیں، ماسک تھے نہ کلہاڑیاں

سانحہ گل پلازہ: فائربریگیڈ کی پہلی گاڑیاں بے سروساماں آئیں، ماسک تھے نہ کلہاڑیاں

سانحہ گل پلازہ میں پھنسے افراد کو بچانے والے رضاکار دانش نے فائرفائٹنگ کے دوران ریسکیواور فائربریگیڈ کی کارکردگی کا پوسٹمارٹم کردیا ۔ بتایا کہ بروقت کارروائی کرکے لوگوں کوبچایا جاسکتا ہے۔ کمیشن نے دانس کے بیان پرڈی جی ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو، میونسپل کمشنرکے ایم سی اور چیف فائر آفیسرسے جواب طلب کرلیا۔

گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی شروع ہوئی تو شہری سید عبد اللہ نے بیان دیا کہ دس بجکر دس منٹ پرآگ لگنے کا علم ہوا، میزا نائن فلورپرتھے، نیچے جانے کا راستہ نہ ملنے پرواپس آئے، گرل کے گیٹ کو موڑکرنکلے۔ باہرآنے والے ٹرک کے ذریعے باہرنکلا تو میں بے ہوش ہوگیا۔

گل پلازہ میں سیڑھیاں لگا کرلوگوں کو بچانے والے رضا کارشہری دانش نے جوڈیشل کمیشن کو بتایا کہ اس نے ریسکیواورفائرفائٹنگ کے کورس کررکھے ہیں۔ اس نے مدد کی پیشکش کی تو فائر بریگیڈ سے صرف دو سیڑھیاں ملیں ۔ کلہاڑی تھی نہ لاک کٹر۔ ایدھی رضا کارکی مدد سے سیڑھی لگا کر پہلی منزل تک پہنچا اور وہاں سے دوسری منزل تک گیا ۔ چھ سے سات افراد کو نکالا۔ ماسک کے بغیرلوگوں کو نکالنا ممکن نہیں تھا ۔ میں نے منہ پرگیلا کپڑا باندھ رکھا تھا ۔ 11 بجے ہمت ہارگیا کیوں کہ دھواں بہت زہریلا تھا ۔ ریمپ سے آگ اوپرآرہی تھی ۔ ایدھی رضا کاربھی دھویں کی وجہ سے جاچکا تھا۔

دانش نے بتایا فائربریگیڈ صرف پانی ماررہی تھی ان کے پاس ماسک بھی نہیں تھے۔ بالائی منزلوں اور کھڑکیوں کے بلاک توڑکر بھی شہریوں کو نکالا جا سکتا تھا ۔ جسٹس آغا فیصل نے کہا آپ کے مطابق فائراہلکارپروفیشنلی کام نہیں کررہے تھے؟ اس پردانش نے کہا ریمپ کے ساتھ فائر ٹینڈرکھڑا تھا۔ پہلی منزل سے شہری مدد کے لیے اشارہ کررہا تھا لیکن اہلکاروں نے اسے چھت پر بھیج دیا ۔ وہ سیڑھی لگا کر اسے بچا سکتے تھے ۔ گُل پلازہ جوڈیشل کمیشن نےرضاکار دانش کے بیان پر ڈی جی ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو، میونسپل کمشنرکے ایم سی اور چیف فائر آفیسرسے 27 فروری تک جواب طلب کرلیا۔ نوٹس میں کہا گیا کہ ریسکیور دانش کے پیش کردہ بیان میں سنگین نوعیت کے الزامات ہیں، جن کے بارے میں جرح ہوگی۔


Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn