loader image

Latest News & Article

Post: افغان خواتین کے لیے کون آواز اٹھائے گا؟

افغان خواتین کے لیے کون آواز اٹھائے گا؟

افغانستان: افغان طالبان کی جانب سے جاری کیے گئے نئے تعزیری قوانین پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جنہیں خواتین کے حقوق کو مزید محدود کرنے اور سخت سماجی نظام نافذ کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق 90 صفحات پر مشتمل فوجداری ضابطہ، جس پر طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے دستخط کیے، میں خواتین سے متعلق سخت شقیں شامل ہیں، جن کے تحت شوہروں کو بعض حالات میں بیویوں کو جسمانی سزا دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین گھریلو تشدد کو معمول بنانے کے مترادف ہیں۔

نئے قوانین کے تحت خواتین کو انصاف کے حصول کیلئے سخت شرائط کا سامنا کرنا ہوگا، جبکہ بغیر شوہر کی اجازت گھر چھوڑنے پر خاتون اور اس کے اہل خانہ کو بھی سزا دی جاسکتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق افغانستان میں خواتین پہلے ہی تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں سے بڑی حد تک محروم ہوچکی ہیں، جس پر عالمی برادری سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn