سڈنی: آسٹریلیا میں میلبورن سے تعلق رکھنے والے ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر سائمن گورڈن کو خواتین پر مبینہ طور پر غیر ضروری سرجریاں اور اعضا نکالنے کے الزامات کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ متعدد مریضوں نے آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا کہ انہیں اینڈومیٹریوسس کی تشخیص دے کر آپریشن کیے گئے حالانکہ بیماری کے واضح شواہد موجود نہیں تھے، جبکہ بعض خواتین سرجری کے بعد طویل عرصے تک شدید درد اور معذوری کا شکار رہیں۔ ایک کیس میں رحم اور بیضہ دانیاں نکالنے کے باوجود پیتھالوجی رپورٹس میں بیماری ثابت نہ ہو سکی۔ ڈاکٹر گورڈن نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام فیصلے مریض کے مفاد میں کیے گئے، تاہم ریاست وکٹوریا کی وزیرِاعلیٰ جیسنٹا ایلن نے معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے پولیس تحقیقات کا حکم دیا ہے، جبکہ حکام اور طبی ریگولیٹری ادارہ بھی شکایات کا جائزہ لے رہے ہیں۔


