نیویارک/نیو میکسیکو: سوشل میڈیا کمپنی میٹا کی جانب سے فیس بک اور انسٹاگرام سے منسلک میسجنگ سروسز میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن متعارف کرانے کے فیصلے سے متعلق اندرونی دستاویزات منظرعام پر آگئی ہیں، جن سے انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی کے بعض اعلیٰ حکام نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
امریکی ریاست نیو میکسیکو کی عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کے دوران پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق میٹا کے اندرونی ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ مکمل انکرپشن نافذ ہونے سے بچوں کے استحصال سے متعلق کیسز کی نشاندہی کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلومات فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا۔
کمپنی کی ہیڈ آف کانٹینٹ پالیسی مونیکا بیکرٹ نے مارچ 2019 کی ایک اندرونی چیٹ میں لکھا کہ “ہم بطور کمپنی ایک غلط قدم اٹھانے جا رہے ہیں، یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے”، جب سی ای او مارک زکربرگ اس منصوبے کے عوامی اعلان کی تیاری کر رہے تھے۔
یہ دستاویزات نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز کی جانب سے دائر مقدمے کے دوران سامنے آئیں، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ میٹا نے کم عمر صارفین کو شکاری عناصر سے محفوظ رکھنے میں ناکامی دکھائی اور بعض معاملات میں یہ رابطے حقیقی دنیا میں استحصال اور انسانی اسمگلنگ تک جا پہنچے۔ اس نوعیت کا یہ پہلا مقدمہ ہے جو جیوری ٹرائل تک پہنچا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ایک ایسا نظام ہے جس میں پیغام صرف بھیجنے اور وصول کرنے والے کے ڈیوائس پر ہی پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ فیچر ایپل کے آئی میسج، گوگل میسجز اور میٹا کی واٹس ایپ سمیت کئی ایپس میں پہلے سے موجود ہے، تاہم بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ ٹیکنالوجی خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے کیونکہ وہاں اجنبی افراد سے رابطہ آسان ہوتا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق کمپنی کے سیفٹی حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انکرپشن کے بعد دہشت گردی کی منصوبہ بندی یا بچوں کے استحصال جیسے جرائم کی پیشگی نشاندہی تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔ ایک داخلی بریفنگ کے مطابق اگر 2019 میں میسنجر انکرپٹ ہوتا تو بچوں کے استحصال سے متعلق تصاویر اور مواد کی رپورٹنگ 1 کروڑ 84 لاکھ سے کم ہو کر تقریباً 64 لاکھ رہ جاتی، یعنی 65 فیصد کمی واقع ہوتی۔
دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا کہ کمپنی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سینکڑوں بچوں کے استحصال، سیکسٹورشن اور دہشت گردی سے متعلق کیسز میں بروقت معلومات فراہم نہیں کر پاتی۔
میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے ان الزامات کے جواب میں کہا کہ 2019 میں اٹھائے گئے خدشات ہی وہ وجہ تھے جن کی بنیاد پر کمپنی نے اضافی حفاظتی فیچرز تیار کیے۔ ان کے مطابق 2023 میں فیس بک اور انسٹاگرام میسجز کو انکرپٹ کرنے سے پہلے نئے سیفٹی سسٹمز متعارف کرائے گئے، جن کے تحت صارفین قابل اعتراض پیغامات کی رپورٹ اب بھی کر سکتے ہیں۔
کمپنی نے کم عمر صارفین کے لیے خصوصی اکاؤنٹس بھی متعارف کرائے ہیں تاکہ نامعلوم بالغ افراد براہِ راست بچوں سے رابطہ نہ کر سکیں۔
مقدمے کی دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ میٹا کے سیفٹی حکام کو خدشہ تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بچوں سے رابطہ قائم کرنے کے بعد انہیں نجی چیٹس میں منتقل کر کے استحصال کیا جا سکتا ہے، جو کمپنی کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بن سکتا ہے۔


