کراچی: سندھ اسمبلی نے ہفتہ کے روز ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے کراچی کو علیحدہ صوبہ یا وفاقی علاقہ بنانے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا اور شہر کو سندھ کا “لازمی اور ناقابلِ تنسیخ حصہ” قرار دیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایوان میں قرارداد پیش کی جس میں سندھ کی تقسیم یا کراچی کو صوبے سے الگ کرنے سے متعلق بیانات کی شدید مذمت کی گئی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سندھ کو تقسیم کرنے یا کراچی کو الگ کرنے کی کوئی بھی کوشش تاریخ، آئینی روح، جمہوری اقدار اور سندھ کے عوام کے جذبات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان واضح طور پر سندھ کی تقسیم یا کراچی پر مشتمل الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی سازش کو مسترد کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی ہمیشہ سندھ کا حصہ رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے سرکاری ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سندھ اسمبلی نے واضح پیغام دیا ہے کہ سندھ کی وحدت مقدس ہے اور کراچی ماضی، حال اور مستقبل میں سندھ سے الگ نہیں ہو سکتا۔ یہ قرارداد متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) کی جانب سے کراچی کو آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاقی تحویل میں دینے کے مطالبے کے ردعمل میں پیش کی گئی۔ ایم کیو ایم-پی کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے 22 جنوری کو کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران یہ مطالبہ کیا تھا، جو گل پلازہ میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی کے بعد سامنے آیا۔ 17 جنوری کو گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر تقریباً دو روز بعد قابو پایا گیا۔ واقعے میں کم از کم 73 افراد جاں بحق جبکہ تقریباً 1200 دکانیں متاثر ہوئیں۔ بعد ازاں ایم کیو ایم-پی کے رہنما فاروق ستار نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے مطالبہ کیا کہ گل پلازہ سانحے پر وزیراعلیٰ سندھ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو عہدوں سے ہٹایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتی تو کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے۔


