loader image

Latest News & Article

Post: ٹرمپ کی تجسس بھری حکمتِ عملی اور عراقچی کی مزاحمت، جمعرات کے امریکا۔ایران جوہری مذاکرات کی کہانی کا مرکزی محور

ٹرمپ کی تجسس بھری حکمتِ عملی اور عراقچی کی مزاحمت، جمعرات کے امریکا۔ایران جوہری مذاکرات کی کہانی کا مرکزی محور

ایران اور امریکا تہران کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے سلسلے میں جنیوا میں جوہری بات چیت کے تیسرے دور کی جانب بڑھ رہے ہیں، جہاں سفارتی سرگرمیوں، دباؤ پر مبنی بیانات اور محتاط امید کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

اتوار کے روز بدر البوسعیدی نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک جمعرات کو جنیوا میں مذاکرات کا تیسرا دور منعقد کریں گے۔ عمان ان بالواسطہ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ دونوں دیرینہ حریف ممالک کے درمیان ممکنہ فوجی کشیدگی کے خدشات بھی برقرار ہیں۔

امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید مضبوط کر دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو “بہت برے نتائج” سامنے آ سکتے ہیں۔

عمانی وزیر خارجہ کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کو حتمی معاہدے تک پہنچانے کے لیے مثبت پیش رفت کی کوشش جاری ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور “پرامن جوہری افزودگی” کے حق کو تسلیم کروانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام میں نئی رعایتوں پر غور کر رہا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا بیان میں محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مذاکرات سے حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں، تاہم ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔

امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ امریکی صدر اس بات پر متجسس ہیں کہ ایران نے ابھی تک اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر آمادگی کیوں ظاہر نہیں کی۔

اس کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: “آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ہم ہتھیار کیوں نہیں ڈالتے؟ کیونکہ ہم ایرانی ہیں۔” انہوں نے ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ امریکا کے ساتھ سفارتی حل اب بھی ممکن ہے۔

ایران کا مؤقف

ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ سال ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کسی معاہدے پر ختم نہیں ہو سکے تھے، جس کی بڑی وجہ امریکا کا یہ مطالبہ تھا کہ ایران اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی ترک کرے — جسے واشنگٹن ممکنہ جوہری ہتھیار کی راہ سمجھتا ہے۔

امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر جون میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اہم جوہری مراکز تباہ ہو گئے ہیں۔ تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے پاس پہلے سے افزودہ یورینیم کے ذخائر اب بھی موجود ہیں، جنہیں امریکا ختم کروانا چاہتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر چکا ہے، جو سول مقاصد سے کہیں زیادہ سطح سمجھی جاتی ہے۔ نئی تجاویز کے تحت ایران اپنے زیادہ افزودہ یورینیم کا نصف حصہ بیرونِ ملک منتقل کرنے اور باقی کو کم سطح پر لانے پر غور کر رہا ہے۔

دیگر اختلافی نکات

امریکا مذاکرات کو صرف جوہری پروگرام تک محدود رکھنے کے بجائے ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کے معاملات تک بڑھانا چاہتا ہے، جسے ایران نے سرِعام مسترد کیا ہے۔ تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق بعض معاملات پر لچک ممکن ہے۔

پابندیوں کے خاتمے کے طریقہ کار اور دائرہ کار پر بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔

ادھر اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایرانی اپوزیشن رہنما رضا پہلوی سے بھی ملاقات کی، جو 1979 کے ایرانی انقلاب میں معزول ہونے والے شاہ کے بیٹے ہیں اور جلاوطنی میں مقیم ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنیوا میں ہونے والا آئندہ مذاکراتی دور اس بات کا تعین کر سکتا ہے کہ آیا امریکا اور ایران کشیدگی کم کر کے کسی نئے جوہری معاہدے تک پہنچ پائیں گے یا خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn