loader image

Latest News & Article

Post: پی ٹی آئی میں “رہائی فورس” کے اعلان پر اختلافات

پی ٹی آئی میں “رہائی فورس” کے اعلان پر اختلافات

پاکستان تحریک انصاف کے اندر ایک بار پھر اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے خصوصی “فورس” بنانے کے اعلان نے پارٹی میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ اعلان ایک جلسے میں کیا گیا، جس سے کئی پارٹی رہنما حیران رہ گئے۔
پارٹی کے اندر تقسیم
پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ انہیں اس منصوبے کا علم اسی وقت ہوا جب وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا۔ ان کے مطابق ایسی کسی فورس کی تشکیل کے لیے سیاسی کمیٹی یا سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی منظوری ضروری ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پارٹی کے پاس پہلے سے انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور یوتھ ونگ موجود ہیں تو نئی فورس کی کیا ضرورت ہے؟
دوسری جانب وزیر اعلیٰ کے معاون شفیع اللہ جان نے کہا کہ جب اعلان ہو چکا ہے تو فورس بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو اعتماد میں لیا جائے گا، لیکن منظوری ضروری نہیں۔
ذرائع کے مطابق سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں اس معاملے پر سخت اختلاف پایا گیا۔
جیل میں موجود رہنماؤں کا رمضان میں احتجاج مؤخر کرنے کا مطالبہ
کوٹ لکھپت جیل میں قید پانچ سینئر رہنماؤں — شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز احمد چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید — نے مشترکہ خط جاری کیا۔
انہوں نے رمضان کے احترام میں احتجاج مؤخر کرنے اور پارلیمانی سیاست پر توجہ دینے کی اپیل کی۔
رہنماؤں نے عمران خان کی صحت کو سیاسی معاملہ بنانے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ علاج ان کے اہل خانہ اور ذاتی ڈاکٹروں کی مشاورت سے کیا جائے۔
انہوں نے پارٹی تنظیم کو مضبوط بنانے اور آئندہ انتخابات کی تیاری پر زور دیا۔
وزیر دفاع کا ردعمل
وزیر دفاع خواجہ آصف نے “رہائی فورس” کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی فورس کے قیام کا اختیار صرف وفاقی حکومت کے پاس ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عمران خان کو بیرون ملک یا بنی گالہ منتقل کرنے سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn