ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پولیس جھگڑا کیس میں ضمانت، متنازع ٹویٹس کیس میں آئی ایچ سی کے نوٹس جاری
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے وکیل اور سماجی کارکن Imaan Mazari اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ Hadi Ali Chattha کو پولیس سے مبینہ جھگڑے کے مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت دے دی۔ یہ مقدمہ Islamabad High Court کے باہر پیش آنے والے مبینہ واقعے کے بعد سیکریٹریٹ تھانے میں درج کیا گیا تھا۔ اے ٹی سی کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے دونوں ملزمان کی دس، دس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔ سماعت کے دوران وکیلِ صفائی ریاضت علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ من گھڑت اور بے بنیاد ہے اور ایف آئی آر میں ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں ضمانت منظور کر لی۔ تاہم اس کیس میں ضمانت ملنے کے باوجود جوڑا جیل میں ہی رہے گا کیونکہ انہیں سوشل میڈیا پر متنازع پوسٹس کے مقدمے میں سزا سنائی جا چکی ہے۔ متنازع ٹویٹس کیس میں نوٹس دوسری جانب Islamabad High Court نے National Cyber Crime Investigation Agency (این سی سی آئی اے) کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ دونوں ملزمان نے اپنی سزا کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف ٹرائل غیر قانونی اور من مانی پر مبنی تھا۔ عدالت سے سزا معطلی اور اپیل کے فیصلے تک ضمانت کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ گزشتہ ماہ ایڈیشنل سیشن جج نے Prevention of Electronic Crimes Act (پیکا) کی مختلف دفعات کے تحت دونوں کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس میں بھاری جرمانے بھی شامل ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر نفرت اور تقسیم کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔