عمران خان کسی معاہدے کے ذریعے رہائی نہیں چاہتے، پی ٹی آئی رہنما
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ممکنہ رہائی سے متعلق سیاسی قیاس آرائیوں کے دوران پارٹی کے رہنما بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا ہے کہ عمران خان کسی ایسے معاہدے کے تحت رہا نہیں ہونا چاہتے جیسے ماضی میں نواز شریف ہوئے تھے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے مذاکرات میں بڑی رعایتیں دینا پڑتی ہیں، جس کی مثال نواز شریف ہیں جنہیں عملی سیاست سے دور ہونا پڑا، ملک چھوڑنا پڑا اور ایک تحریری معاہدہ کرنا پڑا۔ ان کے مطابق عمران خان ایسی صورتحال سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان 2023 سے کشیدگی جاری ہے۔ متعدد احتجاجی مظاہروں اور اسلام آباد مارچ کے باوجود عمران خان کی رہائی ممکن نہ ہو سکی۔ 2025 کے اوائل میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی ثالثی میں مذاکرات بھی ہوئے، تاہم جوڈیشل کمیشن کے قیام سے متعلق مطالبات پورے نہ ہونے پر بات چیت ختم ہو گئی۔ وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثنااللہ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر رمضان میں کسی قسم کی احتجاجی سرگرمی ہوئی تو عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی لگ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی پیش رفت کے لیے اعلیٰ قیادت کے درمیان اعتماد سازی ضروری ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کے معاون خصوصی شفیع اللہ جان نے واضح کیا کہ پارٹی کسی بیک ڈور رابطے پر یقین نہیں رکھتی اور رمضان کے بعد نئی حکمت عملی کے ساتھ سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ “عمران خان ریلیز فورس” ایک پُرامن فورس ہوگی جس میں نوجوان شامل ہو سکیں گے، اور عمران خان کی رہائی کے بعد اسے تحلیل کر دیا جائے گا۔