Latest News & Article

Post: بجٹ کا بائیکاٹ کرنے والے شہری سندھ کی نمائندگی کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟ شازیہ کریم

بجٹ کا بائیکاٹ کرنے والے شہری سندھ کی نمائندگی کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟ شازیہ کریم

کراچی: سندھ اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ کریم نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مسلسل بجٹ پیش کرنا صوبے میں سیاسی استحکام اور جمہوری تسلسل کی علامت ہے۔

انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو جماعتیں شہری سندھ کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہیں، انہوں نے بجٹ کا بائیکاٹ کیا، جبکہ انہیں عوامی مسائل پر ایوان میں آواز اٹھانی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل پر ان جماعتوں نے کبھی مؤثر احتجاج نہیں کیا۔

شازیہ کریم نے کہا کہ لاہور اور کراچی کا موازنہ کرنے والے حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی سمیت پورے صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دی ہے۔

انہوں نے پانی کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر جام خان شورو نے اسلام آباد میں سندھ کے پانی کے حق کے لیے مقدمہ لڑا، جبکہ بعض سیاسی عناصر اس اہم مسئلے پر خاموش رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام اپنے پانی کے حق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

رکن اسمبلی نے کہا کہ کراچی کے عوام ماضی جیسے حالات نہیں چاہتے اور وہ امن، ترقی اور استحکام کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئے روز سندھ کی تقسیم کی باتیں کی جاتی ہیں، حالانکہ سندھ کسی کی جاگیر نہیں اور نہ ہی اسے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

شازیہ کریم نے کہا کہ کراچی میں صہبا اختر کے نام سے ایک سڑک زیر تعمیر ہے، جبکہ لیاری میں بلاول بھٹو انجینئرنگ کالج کے لیے بجٹ میں فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود لیاری کی ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور حکومت علاقے کی ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت صوبے کے تمام علاقوں کی یکساں ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn