کراچی: سندھ اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی یاسمین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے کراچی کے عوام کو شاہراہِ بھٹو کی صورت میں ایک اہم ترقیاتی تحفہ دیا ہے، جو شہر کے ٹریفک نظام اور انفراسٹرکچر کی بہتری میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کراچی کے عوام کو بجٹ اور ترقیاتی منصوبوں پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شہری اور دیہی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
یاسمین شاہ نے زراعت کے شعبے کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ زرعی معیشت کا ایک اہم ستون ہے، تاہم موجودہ حالات میں کاشتکار مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زرعی آمدنی پر عائد ٹیکس کو 43 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کیا جائے تاکہ کسانوں کو ریلیف مل سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگر سندھ کو اس کا جائز پانی فراہم نہ کیا گیا تو نہ صرف صوبے بلکہ ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ارسا کے قوانین میں تمام صوبوں کے حقوق کا تحفظ موجود ہے اور ان پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔
رکن اسمبلی نے ضلع بدین کے لیے مختص 2 ارب روپے جلد جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان فنڈز سے علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز کیا جا سکے گا۔ انہوں نے بدین میں آئی بی اے سکھر کی نگرانی میں ایک معیاری کالج قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
یاسمین شاہ نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جو حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ایک مثبت کوشش ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بجٹ میں شامل ترقیاتی اور فلاحی اقدامات سے صوبے کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

