کراچی: سندھ اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی شاریق جمالی نے سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال گزرنے کے باوجود عوام بنیادی مسائل میں گھری ہوئی ہے اور حکومت عوامی مشکلات حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ بحث کے دوران پیپلز پارٹی عوام کے سامنے جوابدہ ہے، کیونکہ طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے کے باوجود مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت مسائل حل کرنا نہیں سیکھ سکی جبکہ عوام بے بسی کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
شاریق جمالی نے دعویٰ کیا کہ سندھ کو گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر وسائل اور فنڈز ملے، تاہم ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات توقعات کے مطابق نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کی متعدد اسکیموں پر خاطر خواہ کام نہیں ہوا، جس کے باعث عوام ترقی کے ثمرات سے محروم رہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ ملک کا دوسرا بڑا صوبہ ہے اور اسے خطیر وسائل حاصل ہوئے ہیں، لیکن اس کے باوجود عوامی مسائل میں نمایاں کمی نہیں آ سکی۔ ان کے مطابق پنجاب میں مختلف شعبوں میں بہتر اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ سندھ میں شہری سہولیات کی صورتحال تشویشناک ہے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کراچی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے انفراسٹرکچر، صفائی ستھرائی اور بلدیاتی مسائل بدستور برقرار ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر خزانے بھر گئے ہیں تو گلیاں اور محلے اب بھی بنیادی سہولیات سے محروم کیوں ہیں۔
شاریق جمالی نے آرٹیکل 140-A پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات منتقل کیے جائیں تو عوامی مسائل کے حل میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنائے بغیر ترقی کا عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔
اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ کراچی سے کشمور تک عوام مختلف مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور ایم کیو ایم اس بجٹ کو قبول نہیں کرتی، اسی لیے وہ بجٹ کی تفصیلات پر بحث کرنے کے بجائے عوامی مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 18 سال گزر جانے کے باوجود نہ کراچی کا حال بدلا اور نہ ہی سندھ کے عوام کو ان کے بنیادی مسائل سے نجات مل سکی۔

