سابق سفیر پاکستان برائے امریکا، چین اور اقوام متحدہ اور سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے میں اہم کردار ادا کرکے خود کو عالمی سطح پر ایک مؤثر ثالث کے طور پر منوا لیا ہے۔
اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران دونوں کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے تقریباً 47 سال سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب دنیا کے کئی ممالک اس مسئلے کے حل سے مایوس ہو چکے تھے، پاکستان نے دونوں ممالک کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا اور مذاکرات کی راہ ہموار کی۔
سردار مسعود خان کے مطابق پاکستان کی کامیابی طویل سفارتی تعلقات، علاقائی مفادات کے متوازن انداز اور مختلف فریقین سے مسلسل رابطوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر اور چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں کیں، جس سے یہ ایک عالمی کوشش بن گئی۔
سابق صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ معاہدے کے ابتدائی اثرات عالمی منڈیوں پر مثبت آ رہے ہیں، توانائی کی قیمتوں میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور معاشی رابطوں کی بحالی سے خطے میں کشیدگی کم اور عالمی سپلائی چین مضبوط ہو سکتی ہے۔
تاہم سردار مسعود خان نے خبردار کیا کہ معاہدے کے سامنے اب بھی کئی چیلنجز موجود ہیں، جن میں آئندہ مذاکراتی مرحلہ اور خطے کی سیاسی صورتحال شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار ملک کو ایک قابل اعتماد عالمی سفارتی قوت کے طور پر سامنے لایا ہے۔

