نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دریائے سندھ کے نظام پر بھارت کے نئے آبی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں پانی کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
برسلز میں سرحد پار آبی وسائل سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے خدشات صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ دریائے سندھ کے نظام پر کیے جانے والے عملی اقدامات سے متعلق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ، چناب اور راوی پر ذخائر، توسیعی منصوبوں اور پانی کے رخ میں تبدیلی کے منصوبے سامنے آئے ہیں، جو دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پانی کو دباؤ یا تنازع کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے، بلکہ آبی معاملات کو عالمی قوانین اور باہمی تعاون کے اصولوں کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان آبی معاملات کا فریم ورک فراہم کرتا رہا ہے اور پاکستان اس کے احترام کا حامی ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ ذمہ دار ممالک بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کے مطابق عمل کرتے ہیں، جبکہ مسائل کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور قانونی طریقہ کار سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ پانی سے متعلق چیلنجز، خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھایا جائے۔
اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، حالانکہ عالمی اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

