پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اتفاق ہوا ہے کہ قومی ضروریات کے لیے تعاون کیا جائے گا، تاہم دفاعی تعاون کے علاوہ صوبوں سے مزید کسی قربانی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ صوبوں کا این ایف سی ایوارڈ کے تحت حصہ محفوظ ہے اور آئندہ تین سالہ مالی انتظام کے بعد صوبوں سے مزید حصہ یا قربانی نہیں مانگی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے پہلے بھی قومی مفاد میں قربانیاں دیتے رہے ہیں اور موجودہ حالات میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم وفاق اور صوبے دونوں معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے باوجود صوبوں کو ان کا مکمل حق نہیں ملا، جبکہ ملک کو درپیش چیلنجز کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی کوششوں سے ہونے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر قیادت کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ کے نقصانات کو بخوبی جانتا ہے، اس لیے خطے میں امن اور استحکام کے لیے کوششیں ضروری ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے دفاع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غریب طبقے کی مدد کرنے والے اس پروگرام کو مضبوط بنایا جائے گا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ احتجاجی عناصر کو احساس کرنا چاہیے کہ کشیدگی سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ پاکستان اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام معاملات آئینی اور جمہوری طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔

