ممبئی : بھارت میں موسیقی کی دنیا سوگ میں ڈوب گئی ۔ لیجنڈ گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں چل بسیں ۔ ان کی آخری رسومات پیرکی شام ممبئی میں ادا کی جائیں گی ۔ معروف بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے کو طبیعت ناسازہونے پرگزشتہ شب ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ۔ ان کی پوتی زنائے بھوسلے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پراپنی پوسٹ میں بتایا تھا کہ آشا بھوسلے کو ہفتے کی رات سینے کے انفکشن اورشدید تھکن کی وجہ سے اسپتال لایا گیا تھا ۔
لیجنڈری گلوکارہ اور بلبل ہندوستان آنجہانی لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن آشا بھوسلے کو بھارتی موسیقی کی تاریخ کی سب سے بڑی اورہمہ جہت گلوکاراؤں میں شمارکیا جاتا ہے۔ انہوں نے سات دہائیوں سے زائد طویل کیریئر میں ہزاروں گانے گائے اور مختلف زبانوں اوراندازمیں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے کیریئر کا آغاز1943 میں مراٹھی فلم “ماجھا بال” سے ہوا۔ انہوں نے 1948 میں بالی ووڈ فلم “چنریا” کے لیے”ساون آیا” گانا گا کرشہرت حاصل کی ۔ گلوکاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے 2013 میں مراٹھی فلم “مائی” میں اداکاری بھی کی ۔ آشا بھوسلے نہ صرف ایک بہترین گلوکارہ ہیں بلکہ کھانا پکانے کا بھی شوق رکھتی ہیں اوردبئی و کویت میں ان کے نام سے منسوب ریسٹورنٹس بھی قائم ہیں۔ انہوں نے ہندی سمیت تقریباً 20 مختلف زبانوں میں گانے گائےجبکہ 2006 میں انہوں نے خود انکشاف کیا تھا کہ وہ 12 ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کرچکی ہیں۔
انہوں نے بالی ووڈ کے معروف موسیقاروں کے ساتھ کام کیا جن میں شنکر جے کشن، سچن دیو برمن، آر ڈی برمن، او پی نیر، الییاراجا، بپی لہری اور اے آر رحمان شامل ہیں۔ اپنے شاندار کیریئر کے دوران آشا بھوسلے کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں سات فلم فیئر ایوارڈز برائے بہترین پلے بیک سنگر، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، سال 2000 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور2008 میں پدم وبھوشن شامل ہیں۔


