اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان 47 سال بعد ہونے والے پہلے براہ راست مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوگئے ۔ نائب امریکی صدر وفد کے ساتھ وطن واپس روانہ ہوگئے ۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے ایرانی وفد سے مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ ایران نے امریکی شرائط قبول کرنے سے انکارکردیا جس کی وجہ سے کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ پائے۔ انہوں نے وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا ۔ کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے حیرت انگیز کام کیا، دونوں نے امریکا ایران اختلافات دور کرنے کی کوشش کی۔ مذاکرات میں جو کمی رہ گئی وہ پاکستانیوں کی وجہ سےنہیں تھی، پاکستان نےہمارے اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے میں بہترین کام کیا، پاکستان نےکسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنے کی بھرپورکوشش کی ۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ ایران کے ساتھ 21 گھنٹے سے مذاکرات جاری رہے جس میں مختلف امور پر بات چیت کی گئی، مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کرکے اپنی شرائط پیش کی ۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہماری ایران کے ساتھ سنجیدہ گفتگو ہوئی، بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، میرا خیال ہےیہ خبر ایران کےلیے امریکاکے مقابلے میں کہیں زیادہ بری ہے۔ ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا، کسی ڈیل کے بغیر ہم واپس امریکا جا رہے ہیں، ہم یہاں ایک سادہ تجویز اور باہمی سمجھ بوجھ کے طریقہ کار کے ساتھ آئے تھے، ہم ایک حتمی اور بہترین آفر پیش کرنےکے بعد روانہ ہو رہے ہیں، یہی ہماری آخری اور بہترین پیشکش ہے، دیکھتے ہیں ایرانی اسےقبول کرتے ہیں یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا ایرانی وفد سےجوہری ہتھیاروں سےمتعلق کوئی واضح عزم نہیں سنا، ہمیں واضح یقین دہانی درکار ہےکہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، امریکی صدرکا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے۔ ہم نے اپنی ریڈ لائنزاورجن چیزوں کو موزوں بنا سکتے ہیں وہ بتادی ہیں، ایرانیوں کو وہ چیزیں بھی بتائیں جو ہم ایڈجسٹ نہیں کرسکتے۔

