کراچی: شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما (SMBBIT) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر صابر میمن نے کہا ہے کہ بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی اور مریضوں کا کامیاب علاج ٹراما سینٹر کی نمایاں شناخت بن چکا ہے۔ سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی جلد ٹراما سینٹرز کو آپریشنل کیا جائے گا، جبکہ مختلف مقامات پر تیاری کا عمل جاری ہے۔
14 اگست کے موقع پر SMBBIT میں منعقدہ پروقار پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صابر میمن نے کہا کہ کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی ٹراما سینٹرز کی سہولیات فراہم کرنے پر کام جاری ہے، جن میں جامشورو، میرپور ماتھیلو، مورو، نوری آباد اور گولارچی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی کے ٹراما سینٹر میں روزانہ تقریباً 500 سے زائد مریض تشویشناک حالت میں لائے جاتے ہیں، جن میں سے 70 سے 80 مریض داخل کیے جاتے ہیں جبکہ روزانہ تقریباً 40 سے 50 مریضوں کی سرجری کی جاتی ہے۔ سال 2025-26 کے دوران اب تک تقریباً 1 لاکھ 89 ہزار مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔
صابر میمن نے کہا کہ 2023 میں لاڑکانہ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کامیابی سے آپریشنل کیا گیا، جبکہ 2026 میں سکھر میں بھی ٹراما سینٹر کی سہولت فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ طبی سہولتوں کی فراہمی اور معیاری علاج کے حوالے سے SMBBIT کی کارکردگی قابل فخر ہے۔
تقریب کے بعد ٹراما سینٹر کے ملازمین کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک نئی روایت کا بھی آغاز کیا گیا۔ اسٹاف کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور ماہانہ کارکردگی کی بنیاد پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
تقریب میں SMBBIT کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان، سینئر ڈاکٹرز، پروفیسرز اور بڑی تعداد میں طبی و انتظامی اسٹاف نے شرکت کی۔




