کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر جامعات و بورڈز اسماعیل راہو نے کہا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے تحت اس وقت 37 ترقیاتی اسکیمیں موجود ہیں، جن میں سے 27 اسکیموں پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے یونیورسٹیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے، جبکہ جامعات میں سولرائزیشن منصوبوں پر بھی کام جاری ہے تاکہ توانائی کے اخراجات میں کمی اور تعلیمی سرگرمیوں میں تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔
اسماعیل راہو نے بتایا کہ 2008 سے قبل سندھ میں صرف 10 جامعات موجود تھیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران 20 نئی جامعات قائم کی گئیں، جس سے اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2008 سے پہلے صوبے میں صرف 2 یونیورسٹی کیمپسز تھے، جبکہ اس وقت ان کی تعداد بڑھ کر 18 کیمپسز ہو چکی ہے، جس سے دور دراز علاقوں کے طلبہ کو بھی اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل ہوئی ہے.
وزیر جامعات و بورڈز کے مطابق 2008 سے قبل سندھ کی جامعات میں تقریباً 35 ہزار طلبہ زیر تعلیم تھے، جبکہ اب یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 37 ہزار سے زائد ہو چکی ہے، جو صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت تعلیم کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو معیاری تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں اور صوبے کی ترقی میں ان کا کردار مزید مؤثر بنایا جا سکے