کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما غلام قادر چانڈیو نے وفاقی حکومت پر صوبوں کے حقوق کی حق تلفی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ کی طرح وفاق صوبوں کے ساتھ انصاف نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ تین سال تک وفاق کو اضافی مالی وسائل دینے کا سلسلہ جاری رہے گا، جس کی وہ ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے وسائل اور حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

غلام قادر چانڈیو نے بین الاقوامی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور یہ حقیقت سامنے آ چکی ہے کہ صرف اسلحے کے زور پر جنگیں نہیں جیتی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے عالمی سطح پر اپنی مؤثر پوزیشن کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ سے متعدد وعدے کیے گئے لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق وفاق کو اپنے وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور صوبوں کے جائز مطالبات پورے کرنے چاہئیں۔

کاشتکاری کے شعبے پر بات کرتے ہوئے غلام قادر چانڈیو نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو سولر ٹیوب ویلز سبسڈی پر فراہم کیے جائیں تاکہ زرعی لاگت میں کمی آئے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

خطاب کے دوران انہوں نے سیاسی معاملات پر بھی اظہار خیال کیا اور ماضی کے بعض واقعات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کی قربانیوں اور جدوجہد کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

غلام قادر چانڈیو نے کہا کہ وہ خود کو شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے سیاسی مشن کا وارث سمجھتے ہیں اور پارٹی کے کارکنوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ماضی کے واقعات اور خون کا حساب لیا جائے تو سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی قربانیوں کا جواب کون دے گا، اور اس حوالے سے انصاف کے تقاضے کب پورے ہوں گے۔